بسم الله الرحمن الرحيم
فتوحات کے مہینے، بابرکت رمضان، میں پاکستان کی مسلح افواج اور افغانستان کے مجاہدین کے نام ایک پیغام
اے پاکستان کی مسلح افواج اور افغانستان کے مجاہدین میں شامل بھائیو!
رمضان فتوحات کا مہینہ ہے، جس میں مسلمان صدیوں تک ایک امام کے ماتحت دشمنوں کے خلاف لڑے۔ جہاں تک اس رمضان کا تعلق ہے، اسے یہودی وجود، ہندو ریاست اور امریکی صلیبیوں کے خلاف فتوحات کی شدید ضرورت ہے۔ لیکن اس کی بجائے، ہم دیکھتے ہیں کہ افغانستان کے مجاہدین اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے، جس میں پاکستان کی فوج نے اتوار 22 فروری 2025 کی صبح بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔
لڑنے والے دونوں فریقین کے پاس اپنی لڑائی کے لیے جواز موجود ہیں۔ ایک طرف مجاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے افغانستان پر امریکی حملے میں امریکہ کی مدد کی، اور وہ شریعت کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے۔ دوسری طرف، پاکستان کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ مجاہدین کو پاکستان میں مسلح افواج اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اور انہیں طاقت کے ذریعے روکا جانا چاہیے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ یہ لڑائی کئی سالوں تک جاری رہے گی، جس میں مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہے ہوں گے، جبکہ مسلمان دونوں طرف سے مسلمانوں کے جنازے اٹھا ئیں گے۔
اے افغانستان کے مجاہدین میں شامل بھائیو!
اگرچہ یہ سچ ہے کہ پاکستان کے حکمران شریعت نافذ نہیں کرتے اور امریکہ کے ایجنٹ ہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سنت نے ان سے نمٹنے کا ایک طریقہ متعین کیا ہے۔ خروج کا حکم اس حکمران پر لاگو ہوتا ہے جس کے ساتھ شرعی بیعت کا معاہدہ ہوا ہو، وہ اسلام کے مطابق حکمرانی کرتا ہو اور پھر کھلے کفر کے ساتھ اسلام کی حکمرانی سے دستبردار ہو جائے۔ تاہم، پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی اسلام کے مطابق حکمرانی نہیں کی، اور نہ ہی کبھی کریں گے۔ مزید برآں، وہ اپنے آقا ٹرمپ کی خدمت کے طور پر ان لوگوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جو ایک ہی خلافت کے تحت مسلمانوں کی وحدت کی پکار بلند کرتے ہیں۔
ایسے حکمرانوں کو ہٹانے کا شرعی حکم نصرۃ (عسکری مدد) کا حکم ہے، جو بیعتِ عقبہ ثانیہ سے واضح ہے، جیسا کہ سیرت کی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں اوس اور خزرج کے جنگجوؤں نے ایک دوسرے سے لڑنا بند کر دیا، حالانکہ وہ جہالت کے قبائلی تعصب کی بنیاد پر برسوں سے لڑ رہے تھے۔ انہوں نے اللہ ﷻ کی رضا کے لیے اسلام کی بنیاد پر اتحاد کیا، اور پھر یثرب کے ظالموں کی جگہ اسلامی حکمرانی قائم کی۔ اسی طرح مدینہ منورہ کو اسلام کے ایک حقیقی قلعے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
اب، اگر عسکری قوت اور تحفظ فراہم کرنے والے لوگ، یعنی مجاہدین اور مسلح افواج، ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوں اور ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہوں، تو ہم نصرۃ کے حکم کو کیسے نافذ کریں گے؟ اگر ہم قبائلیت اور قوم پرستی کی بنیاد پر علاقائی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں، تو ہم ہمیں تقسیم کرنے والی استعماری ڈیورنڈ لائن کو ختم کرنے کے لیے کیسے کام کر رہے ہیں؟ اور اگر ہم مہینوں اور سالوں تک حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تو ہم افغانستان اور پاکستان کو ایک طاقتور خلافت کے طور پر متحد کرنے کے لیے کیسے کام کر رہے ہیں؟ کیسے؟!
تو ذرا غور کریں، اگر پاکستان کی مسلح افواج کے لاکھوں مسلمانوں اور افغانستان کے مجاہدین کے لیے اسلام کے دشمنوں کے خلاف ایک متحدہ فوجی قوت بننے کا کوئی راستہ موجود ہو، تو کیا اس کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے؟
اے پاکستان کی مسلح افواج میں شامل بھائیو!
اگرچہ پاکستان کے حکمرانوں کو ہٹانے کا طریقہ ’خروج‘ نہیں ہے، لیکن درج ذیل وجوہات اور ان کے علاوہ بہت سی دیگر وجوہات کی بنا پر انہیں ہٹانا آپ پر شرعی فریضہ ہے:
پہلی وجہ : پاکستان کے حکمران اسلام کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے، باوجود اس کے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأَنْ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ﴾
"اور (اے نبی ﷺ!) آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اور ان سے ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ آپ کو اس (وحی) کے کسی حصے سے بہکا نہ دیں جو اللہ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے" [سورہ المائدہ 5:49]۔
اس کی بجائے، وہ برطانوی استعمار کے دور اور موجودہ امریکی استعمار کے بنائے ہوئے انسانی قوانین کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ ان کا آئین قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ سے ماخوذ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانوں کا بنایا ہوا ہے جس کی توثیق ارکانِ پارلیمنٹ کی اکثریت نے کی ہے۔
دوسری وجہ : پاکستان کے حکمران قوم پرستی کی بنیاد پر مسلمانوں کی تقسیم کو برقرار ہوئے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّـيَّـةٍ يَدْعُو عَصَبـِيَّـةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبـِيَّـةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّـةٌ» "جو شخص کسی اندھے جھنڈے کے نیچے لڑتے ہوئے مارا گیا، جو عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی حمایت کرتا ہو، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے" [مسلم]۔ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان سرحدوں کو ختم کرنے کے لیے کبھی کام نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کریں گے، بلکہ اس کے بجائے وہ ہر موقع پر قوم پرستانہ تعصب کو ہوا دیتے ہیں۔
تیسری وجہ : پاکستان کے حکمران معیشت کے حوالے سے شرعی احکام نافذ نہیں کرتے۔ ایک نمایاں اور حالیہ مثال کے طور پر، وہ اب امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان کے 'نایاب زمینی عناصر' (Rare Earth Elements) کے استحصال کے دروازے کھول رہے ہیں، حالانکہ یہ ان بہت سے وافر معدنیات میں سے ہیں جو مقدار میں محدود نہیں ہیں، اور جو تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ اس کے لیے شرعی دلیل (دلیل) ابیض بن حمال کی روایت سے ہے، «أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَاسْـتَقْطَعَهُ فَأَقْطَعَهُ الْمِلْحَ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَدْرِي مَا أَقْطَعْتَهُ إِنَّمَا أَقْطَعْتَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ قَالَ فَرَجَعَ فِيهِ» "کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ انہیں ایک مخصوص جائیداد الاٹ کر دی جائے، جو آپ ﷺ نے نمک کے ذخائر میں سے الاٹ کر دی۔ جب وہ واپس مڑے تو ایک شخص نے کہا: 'اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیا الاٹ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے انہیں وہ چیز الاٹ کی ہے جو وافر (بہتے پانی کی طرح) ہے'۔ راوی کہتا ہے کہ پھر آپ ﷺ نے وہ ان سے واپس لے لی" [صحیح ابن حبان]۔ چنانچہ، ایسی معدنیات سے تمام مسلمانوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے تاکہ جہاں کہیں بھی مسلمان ہوں ان کی غربت ختم ہو سکے، اور انہیں نہ تو قومی ملکیت (Nationalized) میں لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نجی ملکیت (Privatized) میں دیا جا سکتا ہے۔
چوتھی وجہ: مقبوضہ کشمیر اور ہندو ریاست کے حوالے سے یہ ہے کہ ان ریاستوں کے ساتھ مستقل معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے جو عملاً برسرِ پیکار ہوں۔ مستقل لڑائی کو روکنا اور مستقل صلح (ہدنة) کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے جہاد معطل ہو جاتا ہے، جسے قیامت تک جاری رہنا چاہیے۔ مستقل صلح اسلام کی اشاعت کو بھی روکتی ہے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو زندگی کے تمام دیگر طریقوں پر غالب نہ کر دے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ کُلُّهُ لِلَّهِ﴾
"ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ ہی کے لیے ہو جائے" [سورہ الانفال 8:39]،
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وَالْجِـهَـادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَـنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِـرُ أُمَّـتِي الدَّجَّـالَ "جہاد اس وقت سے جاری ہے جب سے اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا، یہاں تک کہ میری امت کا آخری حصہ دجال سے لڑے گا" [ابو داؤد بحوالہ انس]۔ اس کے باوجود، پاکستان کے حکمرانوں نے 2019 میں کشمیر کا سودا کرنے کے بعد، اور مئی 2025 میں کشمیر کو آزاد کرانے کا سنہری موقع ضائع کرنے کے بعد، بھارت کے ساتھ جنگ بندی مسلط کر رکھی ہے۔
پانچویں وجہ: غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے حوالے سے ہے؛ آپ کو دو سال سے زائد عرصے تک یہودی وجود کے خلاف لڑنے سے روکے رکھنے کے بعد، اب پاکستان کے حکمران ٹرمپ کے 'امن بورڈ' (Board of Peace) کے تحت یہودی وجود کے اتحادی بن گئے ہیں۔ تاہم، جب کوئی ایسی ریاست، جس کے ساتھ ہم عملاً حالتِ جنگ میں ہوں، مکمل طور پر اسلامی سرزمین پر قائم ہو، اس طرح کہ اس کے وجود میں ایسی کوئی زمین شامل نہ ہو جسے مسلمانوں نے ابھی تک فتح نہ کیا ہو، جیسے کہ "اسرائیل"، تو لڑائی اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک کہ یہودی وجود کا خاتمہ نہ ہو جائے اور مسلمانوں کی زمینیں اس سے آزاد نہ کرا لی جائیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ﴾ "پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے، تم بھی اس پر اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تم پر کی ہے" [سورہ البقرہ 2:194]۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾
"اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے" [سورہ البقرہ 2:191]۔
چھٹی وجہ: جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، جو پاکستان کے حکمرانوں کا آقا ہے، تو امت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسری ریاستوں کے ساتھ فوجی معاہدے کرے، جیسے کہ باہمی دفاع کے معاہدے، باہمی سلامتی کے معاہدے، اور ان سے متعلق کوئی بھی فوجی سہولت کاری، جیسے کہ فوجی اڈے، ہوائی اڈے یا بندرگاہیں کرائے پر دینا۔ اسی طرح کافر ریاستوں اور ان کی افواج سے مدد (استعانت) طلب کرنا بھی جائز نہیں ہے، اور نہ ہی ان ریاستوں سے قرضے اور امداد لینا جائز ہے۔
یہ معاہدے اسلام میں حرام ہیں۔ اسلام نے مسلمانوں کو کافر ریاستوں کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لیے کفر کے جھنڈے تلے، یا کفر کی خاطر، یا کسی کافر ریاست کی طرف سے لڑنا حرام ہے، اور یہ بھی حرام ہے کہ کسی کافر کو مسلمانوں پر یا اسلام کی سرزمین پر کوئی اختیار دیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو کافر ریاستوں سے مدد (استعانت) مانگنے سے منع فرمایا، کیونکہ آپ ﷺ نے مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل کرنے سے منع فرمایا تھا، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: لاَ تَسْـتَضِـيئُوا بـِنَارِ الْمُشْرِكِينَ "مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو" [احمد]۔ یہاں آگ سے مراد کنایتاً جنگ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «فَإِنَّا لاَ نَسْـتَعِينُ بـِمُـشْـرِكٍ» "ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے" [صحیح ابن حبان]۔
اور یہ پاکستان کے حکمرانوں کے ان جرائم میں سے محض چند ایک ہیں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ تو پھر آپ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اس کھلی نافرمانی پر ان حکمرانوں کو کیوں نہیں ہٹاتے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ کَرِهَ إِلاَّ أَنْ يُؤْمَرَ بـِمَعْصِـيَـةٍ فَإِنْ أُمِرَ بـِمَعْصِـيَـةٍ فَلاَ سَمْعَ وَلاَ طَاعَةَ "ایک مسلمان پر (حکمران کی) بات سننا اور ماننا لازم ہے، چاہے اسے پسند ہو یا ناپسند؛ سوائے اس کے کہ اسے کسی معصیت (نافرمانی) کا حکم دیا جائے۔ پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے، تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے" [احمد]۔
اے پاکستان کی مسلح افواج اور افغانستان کے مجاہدین میں شامل بھائیو!
جب تم آپس میں لڑتے ہو تو تمہارے دشمن خوش ہوتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تصادم کا اصل فائدہ بھارت اور امریکہ کو ہو رہا ہے۔ ہمارے دشمن دہشت گردی کے خلاف تعاون کے نام پر فتنے کی جنگ بھڑکا کر ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے مخلص عناصر کو اس وسیع تر جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ حکمرانوں کو ہٹا کر اور پاکستان و افغانستان کو ایک طاقتور خلافت کی ریاست میں متحد کر کے سازشیوں کے سروں پر پانسہ پلٹنے کے لیے اپنی قوتیں یکجا کر دیں۔
حزب التحریر اب کئی سالوں سے آپ سب کے ساتھ رابطے میں ہے۔ یہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی بنیاد پر آپ کو نصیحت کرنے اور آپ کا محاسبہ کرنے سے باز نہیں آئے گی۔ یہ ایسا اس لیے کرتی ہے کیونکہ یہ آپ کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہے۔ لہٰذا، یہ آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آپ اپنے درمیان جاری لڑائی کو ختم کر دیں، جیسا کہ اوس اور خزرج نے کیا تھا، اور نبوت کے نقسِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں۔ اس رمضان کو قبضے، استعمار، ظلم اور اندھیروں کے خاتمے کا نقطہ آغاز بنا دیں۔ اللہ کرے کہ آپ سب آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ آزاد مسجدِ اقصیٰ میں بھی تکبیریں بلند کریں۔
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان




