بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں کی اہمیت
تحریر: استاد اسعد منصور
(ترجمہ)
امریکہ نے 12 جولائی 2026 کو ایران پر اپنے حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے، اور اس کی سینٹرل کمانڈ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران حملوں کا یہ تیسرا مرحلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک مال بردار بحری جہاز پر کھلم کھلا حملہ کیا تھا۔ امریکہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے "ایران کے 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے"۔
دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے "دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے، اور آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک اور خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند کر دیا ہے، نیز اس نے قطر میں ایک امریکی فوجی اڈے پر بھی بمباری کی ہے"۔
امریکہ اس سے قبل 7 اور 8 جولائی 2026 کو بھی ایران کے 170 مقامات پر حملے کر چکا ہے۔ امریکی کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تین تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ جبکہ ایران نے اس کے جواب میں عرب ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات پر حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس کے باوجود، اور امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ "وہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں"۔ انہوں نے 11 جولائی 2026 کو کہا: "ایران نے ہم سے بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی ہے، ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے، لیکن میں نے انہیں بتا دیا ہے کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے"۔ چنانچہ امریکہ کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دوسرے فریق کے ماتھے پر پستول رکھ کر اس سے دستخط کروانا چاہتا ہو!
دوسری طرف ایرانی مجلسِ شوریٰ کے صدر اور ایران کے چیف مذاکرات کار قالیباف نے کہا: "آبنائے ہرمز امریکی دھمکیوں سے نہیں بلکہ صرف ایرانی انتظامات کے تحت کھلے گی"، جہاں ایران بحری جہازوں پر کسٹم ڈیوٹی یا فراہم کردہ خدمات کے بدلے فیس عائد کرنا چاہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ ایران سے آبنائے ہرمز کو کسی بھی شرط کے بغیر کھلوانا چاہتا ہے، کیونکہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں اس معاملے سے متعلق کوئی تفصیلات نہیں دی گئی تھیں۔
اسی سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مفاہمت کی یادداشت کے 14 نکات پر مذاکرات طویل اور مشکل ہوں گے، اور ان کی تفصیلات اور ان پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر شدید اختلافات پائے جائیں گے، کیونکہ یہ نکات بارودی سرنگوں سے بھرے ہوئے ہیں جہاں ہر قدم پر دھماکے کا اندیشہ ہے۔ امریکہ کا اس پر دستخط کروانے کا مقصد ایران کو ایک تابع ریاست بنانا ہے، وہ مقصد جسے وہ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی چالیس روزہ جنگ کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس جنگ میں ایران کے 40 بڑے رہنما مارے گئے تھے جن میں ان کے سپریم لیڈر (مرشد) بھی شامل تھے۔ چونکہ امریکہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اسی لیے امریکہ نے 8 اپریل 2026 کو جنگ بندی کا اعلان کیا اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی، یہاں تک کہ 18 جون 2026 کو دونوں صدور، ٹرمپ اور پزشکیان کے درمیان الیکٹرانک طریقے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
ایران کا اس یادداشت پر دستخط کرنا اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے مذاکرات میں شامل ہونا ایران کو چار ماہ کے تعطل کے بعد دوبارہ امریکہ کے زیرِ اثر لانے کی کوشش ہے۔ یہ ایران کی جانب سے ایک بڑی رعایت ہے کیونکہ وہ اتنے عرصے تک ڈٹا رہا اور امریکہ کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہونے دی۔
ظاہر ہے کہ امریکہ اس پر اکتفا نہیں کرے گا کیونکہ اس کا ہدف ایران کو اپنا تابع بنانا ہے، اور وہ اس کے لیے فوجی حملوں، دوبارہ پابندیاں عائد کرنے (جیسا کہ اس نے حال ہی میں کیا ہے)، منجمد اثاثوں کی واپسی میں تاخیر اور تمام دفعات پر عمل درآمد میں لیت و لعل کے ذریعے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ تاہم، اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ اس مفاہمت کی یادداشت یا مذاکرات کے عمل کو چھوڑ دے، کیونکہ یہ اس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اسی لیے وہ ہر حملے کے بعد مذاکرات کی بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے مہروں (ثالثوں) کو متحرک کرتا ہے۔ چنانچہ قطر نے 10 جون 2026 کو اپنا ایک وفد ایران بھیجا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کیا اور ایران سے "کشیدگی کم کرنے اور ضبطِ نفس" کا مطالبہ کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ امریکی حملوں کا جواب نہ دے اور نہ ہی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو چھیڑے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "تنازعات کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے لیے صرف بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے"۔ ایران کے وزیر خارجہ نے سلطنت عمان کا دورہ کیا اور 11 جولائی 2026 کو ایکس (ٹویٹر) پر لکھا کہ "ایران نے اب تک اپنا عہد نبھایا ہے، برخلاف نام نہاد امریکی وزیر خزانہ کے جو مفاہمت کی یادداشت کی نویں شق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں"۔ یہ شق کہتی ہے کہ "امریکہ ایران پر نئی پابندیاں نہیں لگائے گا"، لیکن اس کے باوجود اس نے 14 افراد اور ایک ادارے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے 11 جولائی 2026 کو یہ انکشاف کیا کہ "ایران نے امریکہ کو یہ بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ ایک غلطی تھی"، اور اسے "مذاکرات جاری رکھنے" کی دعوت دی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایرانی سیاست دان امریکہ کو کچھ اور باور کرانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد مذاکرات جاری رکھنا اور امریکہ کے نقشِ قدم پر چلنا ہے، لیکن پاسدارانِ انقلاب کے سربراہان کا موقف کچھ اور ہے۔ وہ جان بوجھ کر جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ اس سارے عمل میں رکاوٹ ڈال سکیں کیونکہ وہ امریکہ سے مکمل آزادی چاہتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ اس انکشاف کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب نے دوبارہ دو بحری جہازوں پر حملہ کر دیا۔
ایرانی مرشد مجتبیٰ خامنہ ای نے مفاہمت کی یادداشت اور مذاکرات جاری رکھنے کے معاملے پر سیاست دانوں کے ساتھ اپنی موافقت کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن پاسدارانِ انقلاب نے بادلِ ناخواستہ خاموشی اختیار کر لی ہے؛ وہ یہ نہیں چاہتے اور (امریکہ سے) مکمل آزادی و خود مختاری کے لیے کوشاں ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مرشد دونوں فریقوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے درمیانی راستہ نکال رہے ہیں، اسی لیے انہوں نے 11 جولائی 2026 کو شائع ہونے والے ایک تحریری پیغام میں "مجرم قرار دیے گئے گنہگار قاتلوں سے شہید قائد اور گزشتہ دو جنگوں کے تمام شہدا کے خون کا بدلہ لینے" کا عہد کیا، اور دعویٰ کیا کہ "دنیا کے حریت پسند جلد ہی انتقام کے مشن کے ایک حصے کا آغاز کر دیں گے"۔ یہ بیان مشہد شہر میں مرشد کی تدفین اور جنازے کے مراسم کے دوران سامنے آیا۔ بالکل اسی طرح کا تذکرہ ان کے والد، سابق مرشد نے اس وقت کیا تھا جب امریکہ نے 2020 میں قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور دیگر ایرانی قائدین کو قتل کیا تھا۔
چنانچہ یہ پیغام مفاہمت کی یادداشت کو مسترد کرنے یا مذاکرات سے دستبردار ہونے کے کسی رجحان کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ یہ محض بپھرے ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے، انتقام کا مطالبہ کرنے، اندرونی محاذ کو مطمئن کرنے اور نظام کے بنیادی اصولوں کے تسلسل پر زور دینے کے لیے ہے۔
ٹرمپ نے 11 جولائی 2026 کو اس کے جواب میں کہا: "ایک ہزار میزائل داغے جانے کے لیے تیار ہیں جن کا رخ ایران کی طرف ہے اور ان کے پیچھے مزید ہزاروں میزائل موجود ہیں... اگر ایران نے دنیا بھر میں امریکی صدر، یعنی میرے، قتل یا قتل کی کوشش کے حوالے سے اپنی ان دھمکیوں پر عمل کیا جن کا اس نے اعلان کر رکھا ہےتو یہ میزائل چلا دیے جائیں گے۔ میں نے احکامات دے دیے ہیں، اور امریکی فوج ایک سال کی مدت کے لیے، جس میں توسیع ہو سکتی ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر نیست و نابود اور تباہ کرنے کے لیے تیار اور باصلاحیت ہے"۔ انہوں نے ایرانی دھمکیوں کو پرانا قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے کوئی نئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ یہ بیان یہودی وجود کی جانب سے امریکہ کو فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی رپورٹس کے بعد سامنے آیا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ اپریل میں بھی ایران کو دھمکی دی تھی کہ "اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس کی تہذیب کو مکمل طور پر مٹا دیا جائے گا"۔
موجودہ سیاسی صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں مفاہمت کی یادداشت کو برقرار رکھنے اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں، جبکہ امریکہ اس مقصد کے حصول تک ہر طرح کا دباؤ ڈالنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس، پاسدارانِ انقلاب ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ خود کو اصل فیصلہ ساز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ بحری جہازوں پر حملے کرتے ہیں اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مرشد کے فیصلے کی اعلانیہ مخالفت بھی نہیں کرتے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ مذاکرات کو مستقل طور پر معطل کر کے ایک ایسی نئی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت مرشد اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں اور پھر ملک کی مکمل آزادی و خود مختاری کے لیے کام کریں۔
صرف آزادی کے لیے تگ و دو کرنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ ایران کو اس نفرت انگیز فرقہ وارانہ عصبیت سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہیے جس کی وجہ سے اسے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے دستور میں ترمیم کر کے اسے قرآن و سنت پر مبنی بنائے اور اس ملک کو نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے ایک مرکز میں تبدیل کر دے۔






