بسم الله الرحمن الرحيم
سیاسی تبصرہ
صدارتی تقرریوں کے ذریعے شامی عوامی اسمبلی (مجلس الشعب) کی تشکیل کی تکمیل
شرعی خلاف ورزیاں اور سیاسی خطرات
تحریر: استاد علی مصطفیٰ البکری
(ترجمہ)
شام میں یکم جولائی 2026ء کو صدارتی تقرریوں کے اجرا کے ساتھ عوامی اسمبلی کی تشکیل کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ ان تقرریوں میں کل 210 ارکان میں سے 70 ارکان کی نامزدگی شامل تھی، جبکہ ارکان کے دو تہائی حصے کا انتخاب براہِ راست ووٹنگ کے بجائے عبوری حکومت کی مقرر کردہ مقامی انتخابی کمیٹیوں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ تمام تر کارروائی 2025ء کے اس آئینی اعلامیے کی بنیاد پر کی گئی جس نے عبوری مرحلے کے دوران قانون ساز ادارے (مقننہ) کے امور کو منظم کیا تھا۔انتخاب کے اس طریقہ کار اور ساتھ ہی بعض ارکان کی تقرری نے خاص طور پر عوامی سطح پر شدید غم و غصے اور ناراضگی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
لیکن سب سے سنگین معاملہ جس پر غور کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ یہ عوامی اسمبلی اور اس جیسی دیگر مثالیں درحقیقت جمہوری نظام کا ہی ثمرہ ہیں، جس میں قانون سازی کا حق عوام کو دیا جاتا ہے، اور عوامی اسمبلیوں کے ارکان ان کے سامنے پیش کیے گئے دستور اور قوانین کی منظوری دیتے ہیں۔ انسانی ساختہ قوانین کا انتخاب یا اسمبلی میں پیش کردہ قوانین کی توثیق، اللہ کے حکم اور اس کی شریعت کی صریح مخالفت ہے۔
مصلحت اور 'اخف الضررین' (کم تر نقصان) جیسے جتنے بھی دعوے اس کے جواز میں پیش کیے جاتے ہیں، شریعت کے ترازو میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیا یہ عظیم قربانیاں اور پاکیزہ خون اس لیے بہایا گیا تھا کہ ایک ایسا انسانی ساختہ نظام نافذ کیا جائے جو اللہ کے غضب کا باعث ہو، یا یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں اور زمین پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم قائم کرنے کے لیے پیش کیا گیا تھا؟!
مزید برآں، اسلامی ممالک میں یہ اسمبلیاں درحقیقت ایک نمائشی جمہوریت کے محض دکھاوے کے ادارے ہیں، جن کا کام ان حکمرانوں کی پالیسیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے جنہوں نے خود کو استعماری طاقتوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے ان کی خدمت میں وقف کر رکھا ہے۔ پس یہ محض نمائشی اسمبلیاں ہیں جن کا مقصد حکمرانوں کے تشخص کو بہتر بنانا اور یہ تاثر دینا ہے کہ وہ اپنی قانونی حیثیت عوامی تائید سے حاصل کر رہے ہیں۔
ان اسمبلیوں میں ایسے گروہوں یا شخصیات کی موجودگی سے ان کی اصل حقیقت تبدیل نہیں ہوتی جو لوگوں میں اپنی اسلامی پہچان کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، چاہے وہ ان قوانین، معاہدوں یا سمجھوتوں کی مخالفت ہی کیوں نہ کریں جو منظوری کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، کیونکہ قوانین اور بین الاقوامی معاہدے ہمیشہ کثرتِ رائے (اکثریت) سے ہی منظور کیے جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ارکان اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ خود کو اللہ کے احکامات کا نگران بنا لیں، اور یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے کون سا حکم (آج کے دور میں) مناسب ہے اور کون سا نہیں!
سب سے خطرناک پالیسیوں میں سے ایک پالیسی بیرونی حمایت اور بڑی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرنا ہے، جبکہ اس انقلابی عوامی بنیاد سے پیٹھ موڑ لینا ہے جس نے بحرانوں اور سختی کے وقت اپنی بھرپور قوت ثابت کی ہے۔ اس پالیسی کا پہلا ثمر (نتیجہ) ان نعروں سے انحراف اور ان مقاصد و بنیادی اصولوں سے لاتعلقی کی صورت میں سامنے آیا ہے جو سابقہ مجرمانہ نظام کے خاتمے سے پہلے پیش کیے جاتے تھے۔ اس کا تکلیف دہ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سابقہ نظام کی ہیئت کو برقرار رکھا گیا، حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ اسے جڑ سے تبدیل کیا جاتا اور ایسا نظام نافذ کیا جاتا جو اللہ کو راضی کرنے والا ہو، جس کا دستور اور قوانین کسی بھی دوسرے مطالبے کو خاطر میں لائے بغیر صرف اور صرف اسلامی عقیدے سے ماخوذ ہوں۔
اسلام اور مسلمانوں سے بغض رکھنے والے امریکہ کے سامنے جھکنے کی پالیسی کے بڑے سیاسی فتنے اور تباہیاں ابھی آنے والی ہیں، جن کے آثار 10 نومبر 2025ء کو دمشق میں عبوری مرحلے کی موجودہ انتظامیہ کے اس فیصلے سے واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں جس میں انہوں نے "دہشت گردی" کے خلاف جنگ کے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے کی منظوری دی ہے۔ اسی طرح امریکی سرپرستی میں یہودی وجود (اسرائیل) کے ساتھ سیکیورٹی مذاکرات کرنے، سرحدوں پر فوجی تصادم سے بچنے کے لیے رابطے کا ذریعہ یا چینل بنانے، کشیدگی کم کرنے، اور شامی سرزمین پر ان کی جارحیت اور دراندازی کو نظر انداز کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ اس بہانے کیا جا رہا ہے کہ ہم کسی ایسی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتے جس میں ناکامی کا خدشہ ہو، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں!
آنے والی عوامی اسمبلی کے سامنے توثیق کے لیے کچھ انتہائی خطرناک معاملات پیش ہونے والے ہیں، اور اس میں اسمبلی کے ارکان کا کردار اس سے زیادہ کچھ نہ ہوگا کہ وہ لوگوں کے سامنے محض جھوٹے گواہ بنیں، جن کے ذریعے عوام اور رائے عامہ کو یہ دھوکہ دیا جائے کہ جو کچھ ہوا وہ "عوام کی مرضی" ہے، نہ کہ امریکی دباؤ کے تحت ریاست اور حکمرانوں کے مطالبات۔
ان خطرناک سیاسی مسائل میں سے، جن کی منظوری عوامی اسمبلی سے حاصل کرنا مقصود ہے، ایک آئینی اعلامیہ، انسان ساختہ دستور کو مستحکم کرنا اور ریاست کی جمہوریہ کی شکل کو برقرار رکھنا ہے؛ جو کہ اہلِ شام کے اپنی تحریک کے دوران کیے جانے والے اس مطالبے، کہ ایک خالص اسلامی نظامِ حکومت قائم کیا جائے، کے بالکل برعکس ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور نہایت سنگین مسئلہ یہودی وجود (اسرائیل) کے ساتھ معاہدے کرنا، اسے تسلیم کرنا اور ہماری زمین اور مقدسات پر اس کے غاصبانہ قبضے کا اعتراف کرنا ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس کے خلاف ڈٹ جانے اور اسے مکمل طور پر مسترد کرنے کی ہم تمام مخلص لوگوں کو پکارتے ہیں، اور اسے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے؛ کیونکہ یہودی ہمارے ملک پر قابض ہیں اور ان کے ساتھ ٹکراؤ ایک ناگزیر حقیقت ہے، جس کے لیے ہمیں بھرپور تیاری کرنی چاہیے، اور ہمیں ان خواب آور وعدوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے جو ہمیں بیچے جا رہے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ عبوری مرحلے کی انتظامیہ نے یہودی وجود کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے کی منظوری کے حوالے سے اپنے جھکاؤ میں وقتی طور پر کمی کی ہے، لیکن یہ محض ایک عارضی معاملہ ہے۔ درحقیقت غلامی اور امریکہ کو راضی رکھنے کی پالیسی کا انتخاب ملکی مفادات کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اسی طرح 26 جون 2026ء کو لبنان اور یہودی وجود کے درمیان ہونے والا معاہدہ، جسے ایک سیاسی اور سیکیورٹی فریم ورک قرار دیا گیا ہے، اس کا مقصد لبنان اور یہودی وجود کے درمیان ٹکراؤ ختم کرنا، اسے تسلیم کرنا اور ایک وسیع تر تصفیے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جسے امریکی دباؤ اور علاقائی ملی بھگت سے شام میں بھی دہرانے کی کوشش کی جائے گی۔
ملک کے وسائل ،امریکہ اور اس کی کمپنیوں کا خاص ہدف اور ان کی لالچ کا مرکز ہیں تاکہ مراعات حاصل کر کے اور ملک کو آزاد منڈی اور نجکاری کی پالیسی کی طرف دھکیل کر ان پر قبضہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے عوامی اسمبلی سے، بحیثیت ایک قانون ساز ادارے کے، ایسے قوانین بنوانا مطلوب ہے جو اس کی اجازت دیں اور ان پہلوؤں سے متعلق معاہدوں کی توثیق کریں، جس کا نتیجہ ہماری صلاحیتوں اور دولت کا دشمنوں کے ہاتھوں میں چلے جانے کی صورت میں نکلے گا۔ مزید برآں، یہ ہر شعبے میں امریکی تسلط مسلط کرنے کا ایک چور دروازہ ہے، جو مکمل غلامی کو مستحکم کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے اور اس سے نجات پانے کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔
جن خطرات اور مشکلات کا ہمیں سامنا ہے اور جو مستقبل میں ہمارے سامنے کھڑی ہیں، وہ انتہائی سنگین ہیں، اور ان کا حل غلامی کو مستحکم کرنے اور انسانی ساختہ طرزِ حکمرانی میں قطعاً نہیں ہے۔ اس کا واحد حل اس نظامِ حکومت کا قیام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے، یعنی اسلام کا نظامِ حکومت۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہمارے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ہم دنیا و آخرت میں اپنی عزت، کامیابی اور خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔
ولایہ شام میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے سربراہ






