بسم الله الرحمن الرحيم
”تیل کے بدلے خوراک“ سے ”نقد کے بدلے غذائیت“ تک!
یمن میں منظم غربت پیدا کرنے کا کفار کا آلہ کار
تحریر: عبود الفقیہ – ولایت یمن
(ترجمہ)
عالمی بینک میں یمن کی گورنر اور وزیر برائے منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون، افراح الزوبہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ عالمی بینک نے یمن میں ”نقد کے بدلے غذائیت اور ذرائع معاش“ کے منصوبے کے لیے 100 ملین ڈالر کی گرانٹ کی منظوری دی ہے، جس کے ساتھ ساتھ ملک کی استقامت، بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مزید 1.8 ملین ڈالر بھی مختص کیے گئے ہیں (روسیہ الیوم)۔
ان خوشنما سفارتی الفاظ اور نام نہاد مالی امداد کے پیچھے ایک ایسی اصل حقیقت چھپی ہے جو صورتحال کے برعکس ہے۔ اس منصوبے کا اعلان دکھوں کو کم کرنے کا کوئی انسانی ہمدردی کا اقدام نہیں ہے، بلکہ یہ غلامی کو پختہ کرنے اور جنگ و جدل کے شکار لوگوں کے وسائل پر استعماری گرفت مضبوط کرنے کی ایک نئی کڑی ہے۔ یمن اس مذموم پالیسی سے مستثنیٰ نہیں ہے جسے عالمی بینک بڑی سرمایہ دارانہ طاقتوں، بالخصوص امریکہ کے ایک فرمانبردار آلے کے طور پر مہارت سے استعمال کرتا ہے۔ امریکہ بین الاقوامی مالیاتی پالیسیوں کو کنٹرول کرتا ہے اور انہیں ترقی و تعمیرِ نو کے چمکدار نعروں کی آڑ میں قوموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے اور ترقی پذیر ممالک کے سیاسی فیصلوں کو تابع بنانے کے لیے ایک ”نرم ہتھیار“ کے طور پر استعمال کرتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ غربت کی منصوبہ بندی اور معاشی کمزوری کو مستقل کرنے کا ذریعہ ہے۔
”نقد کے بدلے غذائیت اور ذرائع معاش“ کے منصوبے کو بین الاقوامی اداروں کے طویل استعماری پس منظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ تصور فوراً نوے کی دہائی میں عراق پر مسلط کیے گئے بدنامِ زمانہ ”تیل کے بدلے خوراک“ پروگرام کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ طریقے اور نام بدلتے رہتے ہیں، لیکن بنیادی مقصد ایک ہی ہے۔ اصل ہدف آزاد قوموں اور وسائل سے مالا مال ممالک کو ایک ایسی کنزیومر سوسائٹی (صارف معاشرے) میں تبدیل کرنا ہے جو اپنی خود مختار اور پیداواری معیشت کی تعمیر کے بجائے روزمرہ کی بقا کے لیے امداد کے ٹکڑوں کی منتظر رہے۔
”نقد کے بدلے غذائیت“ کے تصور کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ انسان کے رزق اور اس کی بقا کو عالمی بینک اور اس کے ذیلی اداروں کے ذریعے مغرب سے آنے والے فنڈز کے بہاؤ کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ یہ پیچیدہ طریقہ کار کوئی حقیقی معیشت تعمیر نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے دعووں کے مطابق کوئی استقامت پیدا کرتا ہے، بلکہ یہ مستقل معاشی محتاجی کو جڑ سے مضبوط کرتا ہے۔ اس طرح بھوک کو ایک ایسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ان سیاسی منصوبوں اور خود مختاری کے سودوں کو تسلیم کروایا جا سکے جنہیں کوئی بھی قوم اپنی معاشی اور سیاسی خوشحالی کی حالت میں کبھی قبول نہیں کرے گی۔
اس تصور کی تفصیلات اور اس کے منظم امدادی طریقہ کار میں ”انسانیت“ کا لبادہ بالکل واضح ہے، جہاں بظاہر اس پروگرام کو روایتی امداد کے ایک لچکدار متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد براہ راست نقد امداد کے ذریعے غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کو کم کرنا ہے تاکہ مستحقین اپنی مقامی مارکیٹوں سے اپنی ضروریات کے مطابق تازہ اور مناسب خوراک خرید سکیں۔ یہ حکمتِ عملی مخصوص گروہوں، جیسے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں پر توجہ مرکوز کرتی ہے تاکہ ان کی صحیح نشوونما کو یقینی بنایا جا سکے، اور دو سال سے کم عمر بچوں کو اس نازک عرصے میں سوکھے کے مرض (تقزم) اور غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ ان خاندانوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے جن کی کفیل خواتین ہیں اور جنہیں کافی خوراک کی فراہمی میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ اس امداد کا طریقہ کار ”مشروط نقد منتقلی“ پر مبنی ہے، یعنی ماؤں کو رقم اس وقت دی جائے گی جب وہ صحت اور غذا کے بارے میں آگاہی کے سیشنز میں شرکت کریں، مراکزِ صحت سے رجوع کریں، یا کھانے کے ان واؤچرز کو استعمال کریں جنہیں امدادی تنظیموں کے ساتھ معاہدہ کرنے والے اسٹورز سے بنیادی اشیائے خوردونوش کے بدلے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنی سیاسی گہرائی میں یہ تکنیکی تفصیلات بھوک ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بھوک کو کنٹرول کرنے کی ایک ”نرم انجینئرنگ“ (Soft Engineering) ہے، تاکہ معاشرے کی روزمرہ زندگی کو عطیہ دہندگان کے احکامات سے جوڑ دیا جائے۔
عالمی بینک: لوٹ مار اور معیشتوں کی تباہی کا آلہ کار
دوسری جنگِ عظیم کے بعد جس بنیادی مقصد کے لیے عالمی بینک اور آئی ایم ایف قائم کیے گئے تھے، وہ کبھی بھی ترقی پذیر ممالک کی ترقی یا غریبوں کی نجات نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد بین الاقوامی نظام کی ایسی تشکیل کرنا تھا جو بڑی طاقتوں کے مفادات کی خدمت کر سکے۔ عالمی بینک اپنی حکمتِ عملی میں نام نہاد ”ساختی اصلاحات کے پروگراموں“ اور ”مشروط گرانٹس“ کے ذریعے ممالک کے معاشی ڈھانچے کو منظم طریقے سے تباہ کرنے پر توجہ دیتا ہے، جو ایسی تباہ کن شرائط مسلط کرتے ہیں جن سے خود انحصاری کا ہر موقع ختم ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی تباہ کاریوں کا خلاصہ چند بنیادی نکات میں کیا جا سکتا ہے، جو دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ ان کے تجربات میں واضح طور پر نظر آتے ہیں:
- تجارت اور کرنسی کے تبادلے کی آزادی: اس کا مطلب درآمدات پر سے تمام پابندیاں ہٹا دینا ہے، جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹیں غیر ملکی سامان سے بھر جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی صنعتیں اور مصنوعات مسابقت کی صلاحیت کھو دیتی ہیں اور تیزی سے دیوالیہ ہو جاتی ہیں، جبکہ ملکی خزانہ غیر ملکی کرنسی اور سونے سے خالی ہو جاتا ہے۔
- مقامی کرنسی کی قدر میں کمی: یہ منظم طریقہ کار صرف بڑی صنعتی طاقتوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو ترقی پذیر ممالک کی دولت اور خام مال کو انتہائی ارزاں قیمت پر خرید لیتے ہیں۔ دوسری طرف، مقامی طور پر اس سے لوگوں کی قوتِ خرید ختم ہو جاتی ہے اور وہ افراطِ زر کے اس خوفناک جال میں پھنس جاتے ہیں جو پیداواری بنیاد کے بغیر نوٹ چھاپنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
- سخت کفایت شعاری کے پروگرام اور تنخواہوں کو منجمد کرنا: اس میں مقامی قرضوں پر پابندیاں، شرحِ سود میں اضافہ، بنیادی خدمات پر حکومتی اخراجات میں کٹوتی، ٹیکسوں میں اضافہ، اور بجلی، صحت و تعلیم جیسی عوامی سہولیات کی فیسوں میں اضافہ شامل ہے۔ نیز سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو منجمد کر دیا جاتا ہے اور عوامی ضرورت کی اشیاء پر سبسڈی ختم کر دی جاتی ہے، جو معاشی جمود اور داخلی بے چینی کا سبب بنتی ہے۔
- منظم قرضوں کے جال میں پھنسنا: صنعتی ممالک تیسری دنیا کے ممالک کو قرضے لینے کے لیے اکساتے ہیں اور پھر ان قرضوں کو یا تو اشیائے ضرورت کی درآمدات کے لیے یا پھر غیر پیداواری، فرضی اور تفریحی منصوبوں پر خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جب ادائیگی کا وقت آتا ہے اور ملک معذور ہو جاتا ہے، تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دوبارہ شیڈولنگ مسلط کرنے کے لیے مداخلت کرتے ہیں، جس سے بوجھ اور سود در سود (ربا مرکب) بڑھتا جاتا ہے، یہاں تک کہ قرض ملک کے خود مختار وسائل پر براہ راست قبضے، اس کے اثاثوں کی فروخت اور اس کے دیوالیہ ہونے کے اعلان کا بہانہ بن جاتا ہے۔
یہ ترقیاتی ناکامی اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کا اصل مقصد ہے۔ خود ورلڈ بینک کے 1991 کے ایک سرکاری مطالعے میں، جس میں پچاس ترقی پذیر ممالک شامل تھے، یہ چونکا دینے والا نتیجہ سامنے آیا کہ جن ممالک نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پروگراموں کو نہیں اپنایا تھا انہوں نے معاشی ترقی کی، جبکہ ان پروگراموں کو اپنانے والا کوئی بھی ملک کچھ حاصل نہ کر سکا؛ جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ پروگرام تباہی اور غربت پیدا کرنے کے تیار شدہ نسخے ہیں۔
یمن اس منظم طوفان کی زد میں
یمنی صورتحال میں 101.8 ملین ڈالر مالیت کا یہ منصوبہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے اور مصیبت زدہ عوام کو ذہنی طور پر مفلوج رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسا ملک جو بے پناہ دولت اور منفرد اسٹریٹجک محل وقوع کا حامل ہے، وہ اپنی تمام تر ضروریات خود پوری کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ اسے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے صحیح نظریہ اور اصول فراہم کیا جائے۔ لیکن آج اس کے لیے یہی چاہا جا رہا ہے کہ وہ کافر مغربی استعمار کی طرف سے دیے گئے اس ٹکڑوں (بھیک) کا اسیر رہے۔
عالمی بینک انسانی ہمدردی کے جذبے یا اخلاقیات کے تحت انسانی صورتحال کو بچانے کے لیے حرکت نہیں کرتا، بلکہ اس کا مقصد یمن کو بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کے سائے تلے رکھنا اور مغربی تسلط سے معاشی آزادی کی کسی بھی حقیقی سمت میں پیش قدمی کو روکنا ہے۔ بحالی اور تعمیر نو کو ان بین الاقوامی اداروں کی نگرانی اور انتظام سے جوڑنے کا مطلب ملک کے مستقبل کو آنے والے کئی سالوں کے لیے گروی رکھنا ہے۔ اس تعمیر نو کو استعماری سیاسی حل کی قبولیت اور ملک کو مستقل کمزوری کی حالت میں رکھنے کے ساتھ مشروط کرنا ہے تاکہ بڑی بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان مالِ غنیمت اور مفادات کی تقسیم ہو سکے، بالکل اسی طرح جیسے شیر، بھیڑیے اور لومڑی کی مشہور کہانی میں لومڑی غنیمت تقسیم کرتی ہے جہاں کمزور کے حصے میں سوائے نقصان کے کچھ نہیں آتا۔
آخر میں ہم یہ کہتے ہیں کہ: امت کے نوجوانوں پر یہ شرعی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ان باریک حقائق کو بے نقاب کریں اور سرمایہ دارانہ انسانی امداد کے لبادے میں لپٹی ہوئی ان خبیث استعماری پالیسیوں کو ننگا کریں۔ وہ مستعمر کافر کے ہاتھ اور اس کے آلات کو کاٹ پھینکیں اور دوسری خلافت راشدہ قائم کریں، تاکہ دنیا جان لے کہ "نقد کے بدلے غذائیت اور ذرائع معاش" کا منصوبہ غربت اور غلامی کو پختہ کرنے اور قوموں کے ارادے اور نسلوں کے مستقبل کی بالواسطہ لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی اور حتمی نجات عالمی بینک کی زہریلی گرانٹس اور قرضوں سے کبھی حاصل نہیں ہوگی، بلکہ یہ ہر قسم کی غیر ملکی سیاسی اور معاشی مداخلت کا ہاتھ کاٹنے، امت کے اپنے فیصلے اور مکمل خودمختاری کی بحالی اور اسلام کے عادلانہ ربانی نظام کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو انسانوں کے معاملات کی حقیقی نگہبانی کی ضمانت دے سکتاہے، دولت کو عدل کے ساتھ تقسیم کر سکتا ہے اور غلامی اور ظالمانہ استعماری سرمایہ دارانہ ذلت کی طویل دہائیوں کا خاتمہ کر سکتا ہے۔






