الإثنين، 06 صَفر 1448| 2026/07/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

فورتھ جنریشن وار(Fourth Generation War) اور سوڈانی ریاست کا بتدریج خاتمہ

 

تحریر:استاد ناصر رضا

(ترجمہ)

 

 

جب منطق عاجز ہو جائے اور دلیل غائب ہو جائے، اور جب انسان اپنا حق لینے یا اس کی حفاظت کرنے سے قاصر ہو جائے، تو وہ طاقت کا سہارا لیتا ہے۔ اسی طرح انسانوں، گروہوں اور ریاستوں کے درمیان جنگیں جنم لیتی ہیں، اور ان کے ذرائع اور آلات میں نمایاں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

 

بین الاقوامی قانون نے جنگ کی تعریف دو یا دو سے زیادہ فریقوں، یا دو مختلف ریاستوں کے درمیان ایک مسلح تنازع کے طور پر کی ہے، جس کے دوران ہر ریاست اپنے مفادات، اہداف اور حقوق کا دفاع کرتی ہے۔ جنگیں اقوام اور عوام کی تاریخ کا حصہ رہی ہیں، اور ذرائع، اسالیب اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ جنگوں کے نمونوں اور شکلوں میں بھی فرق آتا گیا ہے۔ جنگوں کی تعریف میں نئی اصطلاحات سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے نمایاں جنگی آلات، ان کے انتظام، میدانوں اور اقسام کے درمیان فرق کرنے کے لیے 'نسلوں' (Generations) کی اصطلاح کا استعمال ہے؛ جہاں ہر نسل ایک مخصوص وقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں جنگ کا ایک خاص نمونہ، مخصوص ذرائع اور طریقوں کے ساتھ غالب رہا۔ 'پہلی نسل کی جنگوں' کی اصطلاح سامنے آئی، جسے 'نیپولین جنگیں' بھی کہا جاتا ہے، جن کا آغاز 1648ء میں ہوا، یہ وہ سال تھا جب 'معاہدہ ویسٹ فیلیا' پر دستخط ہوئے تھے۔

 

جہاں تک 'دوسری نسل کی جنگوں' کا تعلق ہے، تو یہ صنعتی انقلاب کے بعد ابھریں، جس نے بھاپ کی ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے ذریعے آتشیں طاقت کے متنوع اختیارات کا اضافہ کیا، اور اسلحہ و توپوں کے ڈیزائن میں ترقی ہوئی۔ یہ دشمن کو اس وقت تک تھکانے  پر انحصار کرتی ہیں جب تک وہ ٹوٹ نہ جائے، جس کی مثال پہلی عالمی جنگ اور امریکی خانہ جنگی ہے۔

 

'تیسری نسل کی جنگیں' پہلی دو سے زیادہ مختلف نہیں تھیں، بلکہ یہ زیادہ وحشیانہ تھیں جو ہر چیز کو تباہ کر دیتی تھیں، اس کی مثال دوسری عالمی جنگ ہے۔ لیکن سب سے خطرناک اور گندی جنگیں وہ ہیں جنہیں 'چوتھی نسل کی جنگیں' (4GW) کہا جاتا ہے: یہ جنگ کے ایک نئے انداز کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس کا مقصد روایتی ذرائع کے بجائے غیر روایتی طریقوں سے حریف کو کمزور کرنا ہے، یعنی براہ راست جنگ کے بغیر، بلکہ میڈیا، نفسیاتی جنگ، افواہوں، پروپیگنڈے، سیاسی اثر و رسوخ، اور غیر منظم مسلح گروہ اور معاشرتی تقسیم پیدا کر کے۔ یہ اصطلاح پہلی بار 1989ء میں امریکی میرین کور کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سامنے آئی، جس کا عنوان تھا: "چوتھی نسل میں جنگ کا بدلتا ہوا چہرہ - ولیم ایس لنڈ"۔ 2006ء میں ایک ریٹائرڈ کرنل نے اپنی کتاب "دی سلنگ اینڈ دی اسٹون" (The Sling and the Stone) میں اس خیال کو وسعت دی، جہاں انہوں نے چوتھی نسل کی جنگوں کو پیچیدہ اور طویل قرار دیا، جو لوگوں کو خوفزدہ کرنے پر مبنی ہیں، اور غیر مرکزی ہیں کیونکہ یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ کثیر القومی (multi-national) ہوتی ہیں، جن میں نسل کشی کے واقعات اور گوریلا جنگ میں لوگوں کی حرمتوں کی پامالی ہوتی ہے۔ یہ قومی ریاست (Nation State) کی لڑاکا افواج پر تقریباً مکمل اجارہ داری کے خاتمے اور ماقبل جدید دور کی طرف واپسی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں، اور ان کا مقصد اداروں کو گرا کر اور افراتفری پھیلا کر ریاستوں کو اندر سے تباہ کرنا ہوتا ہے۔

 

سوڈان کی جنگ، جو اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے، ان باتوں کا ایک عملی نمونہ اور اطلاق ہے جو امریکی وار کالج کے اسٹریٹجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے فوجی اسٹریٹجی کے ماہر ڈاکٹر میکس مینورنگ (Max Manwaring) نے یکم دسمبر 2018ء کو دیے گئے ایک لیکچر میں بیان کی تھیں۔ اس لیکچر میں نیٹو کے اعلیٰ افسران اور یہودی فوج کو مدعو کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ: روایتی جنگوں کا طریقہ اب پرانا ہو چکا ہے، اور اب نیا طریقہ جنگ کی چوتھی نسل ہے، جس کی تعریف انہوں نے یوں کی: (دشمن ریاست کو ناکام بنانے، اس کے استحکام کو متزلزل کرنے اور پھر ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کے لیے جبر کے ذریعے جنگ، جو ہمارے مفادات کا تحفظ کرے اور انہیں حاصل کرے)۔ انہوں نے کہا: مقصد 'تھکاوٹ اور سست رفتاری سے تنزلی' (Erosion) ہے، لیکن یہ ثابت قدمی کے ساتھ ہوتا ہے، جس کا آغاز عدم استحکام سے ہوتا ہے۔ یہ کام ان لوگوں کے ذریعے شروع کیا جاتا ہے جنہیں انہوں نے بعد میں ملک ہی کے بیٹوں میں سے 'شدید اور شریر مقامی جنگجو' کا نام دیا (مثال کے طور پر سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا)۔ یہ عمل بجلی، پانی، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے بنیادی ڈھانچے پر سست روی اور خاموشی سے ضرب لگا کر کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ آپ کا دشمن مردہ حالت میں بیدار ہو۔

 

ان سے پوچھا گیا کہ ریاست کو ایک ہی بار گرانے کے بجائے تھکاوٹ اور سست رفتار تنزلی کا راستہ کیوں اپنایا جاتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اگر ہم ریاست کو ایک دم گرا دیں گے تو اس کا ڈھانچہ اور بحالی کے امکانات باقی رہیں گے؛ سست رفتار تنزلی کا مطلب ہے شہروں کی بتدریج تباہی کے ذریعے ایک 'ناکام ریاست' بنانا، لوگوں کو بھٹکتے ہوئے ریوڑوں اور بے گھر افراد کی قطاروں میں بدل دینا تاکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ریاست کی صلاحیت مفلوج ہو جائے، بلکہ ان ضروریات کی کمی کو جنگ کے ایک دوسرے رخ میں بدل دیا جائے؛ اسی طرح ایک نئی ثقافت پیدا کرنے کے لیے بے گھر افراد کے کیمپ بنانا۔ نیز، یہ قلت حکومت کے خلاف عوامی رائے عامہ پیدا کرتی ہے، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کمی یا ان کا فقدان لوگوں کو شہروں اور دیہاتوں سے ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور کرتا ہے۔ یہ سب جنگ کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کے طریقہ کار کے ذریعے ہوتا ہے، وہ ایک شہر میں آگ بجھاتے ہیں تو دوسرے میں لگا دیتے ہیں تاکہ ریاست کی صلاحیتوں کو نچوڑ لیا جائے۔

 

وہ کہتے ہیں: ایسی جنگوں میں آپ مقتول بچوں، یا بوڑھوں اور بے گھر و دربدر لوگوں کی قطاریں دیکھیں گے، آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں براہ راست اپنے مقصد کی طرف بڑھنا چاہیے۔ پھر انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ: ہمیں بحران کو حل نہیں کرنا بلکہ اس کا انتظام (Manage) کرنا ہے۔

 

جو شخص سوڈان کی جنگ پر نظر رکھتا ہے، وہ اسے اس کے تمام وسائل اور آلات کے ساتھ 'چوتھی نسل کی جنگوں' کی ایک زندہ مثال پاتا ہے۔ میڈیا کی جنگ سوشل میڈیا پر میدانِ عمل کی جنگ سے زیادہ شدید تھی، اور جہاں تک 'سول سوسائٹی کی تنظیموں' کا تعلق ہے، وہ خواتین اور نوجوانوں کی امداد، تربیت اور فنڈنگ کے نام پر اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اور اس کے ذریعے ریاست کے اندر بیرونی ایجنڈوں کو نافذ کرنے کے لیے ایجنٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ بہت سے وزراء اور حکمران انہی کورسز اور تنظیموں کی پیداوار تھے۔

 

اس کا نتیجہ 160,000 سے زائد اموات، دسیوں ہزار زخمی اور معذور افراد کی صورت میں نکلا، تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے اور انہیں فوجی بیرکوں یا پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا، اور لاکھوں طلباء تعلیم سے محروم ہو گئے۔ اسی طرح صحت کے 40 فیصد سے زائد ادارے کام چھوڑ چکے ہیں، یہاں تک کہ بجلی، پانی، پلوں اور سڑکوں جیسے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، بجلی کے شعبے میں تباہی کا تناسب 60 فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور خرطوم کے اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ نقل مکانی، پناہ گزینی اور غربت کے سائے گہرے ہو گئے ہیں۔ یہ وہ لایعنی اور عبث جنگ ہے جسے امریکہ نے بھڑکایا، جو پہلے دن سے اسے طویل قرار دیتا رہا ہے اور یہ کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہوگا۔

 

یہاں سے ہم یہ کہتے ہیں کہ جنگوں کا یہ گندہ اسلوب، جسے امریکہ نے اسلامی ممالک میں اپنایا ہے، ہم پر یہ واجب کرتا ہے کہ ہم اس کے بارے میں بیدار ہوں اور شرعی احکام کے مطابق معاشرے کی مضبوطی اور یکجہتی پر توجہ دیں، تاکہ کافر مغرب کی سازشوں اور مکارانہ چالوں کا راستہ روکا جا سکے، جو کہ درج ذیل ہیں:

 

1- عسکری ملیشیاؤں پر پابندی لگانا اور انہیں جرم قرار دینا، اور مسلح جدوجہد کے ذریعے مطالبات منوانے کو مسترد کرنا۔

 

2- نسل پرستانہ خطاب پر پابندی لگانا، قبائلی صف بندی کو جرم قرار دینا، اور ہر اس چیز کا خاتمہ کرنا جو قبائلی یا علاقائی عصبیت جیسی نسلی امتیاز کی بو پیدا کرے۔

 

3- منشیات کے استعمال پر پابندی لگانا اور اس کی تجارت کو جرم قرار دینا کیونکہ یہ نوجوانوں کے قتل اور معاشرے کی اعلیٰ اقدار کو تباہ کرنے کا ایک ہتھیار ہے۔

 

4- کافر غیر ملکی تنظیموں، بالخصوص حقوق نسواں اور جینڈر کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ امدادی تنظیموں کے داخلے کو جرم  قرار دینا اور ان پر پابندی لگانا۔

 

5- مغربی سفارت خانوں کے ساتھ پارٹیوں اور افراد کے کسی بھی تعلق کو جرم  قرار دینا،اس پر پابندی لگانا اور وہاں کثرت سے آنے جانے والوں کو مشکوک افراد شمار کرنا۔

 

6- مغربی طاقتوں کو اپنے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہ دینا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء﴾

"اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ" (سورۃ الممتحنہ، آیت: 1)

 

اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُواْ لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيناً﴾

"بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں" (سورۃ النساء، آیت: 101)

 

7- حزب التحریر کے ساتھ مل کر دوسری خلافت راشدہ  کے قیام کے لیے سنجیدہ جدوجہد کرنا، کیونکہ وہی مسلمانوں کی ڈھال اور نگہبان ہے، اور اسلام کے ذریعے حکمرانی کا یہی شرعی طریقہ ہے۔

 

 

 

ولایہ سوڈان میں مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ

 

 

Last modified onاتوار, 19 جولائی 2026 20:30

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک