بسم الله الرحمن الرحيم
کبھی غروب نہ ہونے والے سورج کے بعد، اب برطانیہ ایک عظیم غروب کی سمت گامزن ہے
تحریر: استاد عدنان مزین
(ترجمہ)
برطانیہ کے قلب پر ایک ایسا سیاسی زلزلہ آیا ہے جس کے اثرات کا نقطۂ عروج اس کے تین علاقائی وزرائے اعظم کا وہ سربراہی اجلاس ہے جن کا ایک ہی مشترکہ مقصد ہے: لندن سے علیحدگی۔ بہت سے مبصرین نے اس اجلاس کو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (ڈیولوشن سسٹم) کے آغاز کے بعد سے اب تک کا ایک تاریخی اور بے مثال واقعہ قرار دیا ہے۔ اس اجلاس میں اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر اور اسکاٹش نیشنل پارٹی کے قائد جان سوینی، ویلز کے فرسٹ منسٹر اور ویلش نیشنلسٹ پارٹی ’پلائیڈ کمری‘ (Plaid Cymru) کے سربراہ رون آپ آیورویرتھ (Rhun ap Iorwerth)، اور سن فین (Sinn Féin) پارٹی سے تعلق رکھنے والی شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل او نیل نے شرکت کی۔ ان کے ساتھ سن فین کی صدر میری لو میکڈونلڈ بھی شامل تھیں۔ اس اجلاس کا اختتام ایک ایسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہوا جو تمام فریقین کو خطوں کے حقِ خودارادیت کو آگے بڑھانے اور لندن حکومت کی کسی بھی رکاوٹ کے بغیر ریفرنڈم منعقد کرانے کے حق کا مطالبہ کرنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا پابند بناتی ہے۔
یہ اجلاس مقامی خدمات کے باہمی ربط و ضبط کے لیے کوئی روایتی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مشترکہ دعوت کے نتیجے میں منعقد ہوا تھا تاکہ اس معاملے پر بات کی جا سکے جسے انہوں نے ”تار تار ہوتے وفاقی معاہدے کی ازسرنو تشکیل“ قرار دیا تھا۔ شرکاء کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں سب سے نمایاں بیان جان سوینی کا تھا، جنہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم (Andy Burnham) متحدہ مملکت کے آخری وزیر اعظم ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ارتعاش اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے برطانیہ کے گدلے پانیوں میں ایک بھاری پتھر پھینکا جسے میڈیا نے فوراً گرفت میں لے لیا، جب انہوں نے ایک متحدہ آئرلینڈ کے تصور کی کھلی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ ایک شاندار بات ہوگی“ اور ”میں اسے متحد دیکھنا پسند کروں گا“۔
اس بیان کو برطانیہ میں انتشار کی کھلی ترغیب اور اس قوم کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے مترادف سمجھا گیا جسے امریکہ کا تاریخی اتحادی مانا جاتا ہے۔ اپنے خلاف ہونے والی تنقید کے باوجود ٹرمپ اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹے، بلکہ انہوں نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: ”آپ نے اسکاٹ لینڈ کے بارے میں پوچھا؛ میں ابھی اس پر بات نہیں کروں گا، اسے کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھتا ہوں“،یہ ایک ایسا اشارہ تھا جس کا مفہوم یہ سمجھا گیا کہ متحدہ مملکت کی تقسیم کی پوری فائل مکمل طور پر ان کی میز پر کھلی پڑی ہے۔ ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ارجنٹائن نے جزائرِ فاک لینڈ پر حملہ کر دیا تو شاید وہ برطانیہ کی حمایت نہ کریں، اور یہ ایسا مؤقف ہے جس نے برطانیہ کے تحفظ سے متعلق دہائیوں پر محیط امریکی کمٹمنٹ کو سر کے بل الٹ کر رکھ دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے سیاسی وقار میں بھی زبردست گراوٹ آئی، بالخصوص اس کی بگڑی ہوئی، ناخلف اولاد یعنی یہودی وجود کی جانب سے حالیہ احسان فراموشی اور غداری کے بعد۔ کچھ بستیوں کی تعمیراتی سرگرمیوں پر برطانوی پابندیوں کے معاملے پر سفارتی کشیدگی کے پس منظر میں، اس یہودی وجود کے عہدیداروں نے، جن میں نام نہاد وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر بھی شامل ہیں، ایسے بیانات دیے جن میں برطانیہ پر کڑی تنقید کی گئی۔ بن گویر نے جزائرِ فاک لینڈ (جنہیں مالویناس جزائر بھی کہا جاتا ہے) میں برطانوی موجودگی کو ”ارجنٹائنی سرزمین پر غیر قانونی برطانوی قبضہ“ اور اقوام کی دولت کی ڈکیتی قرار دیا، اور انہوں نے لندن پر پابندیاں عائد کرنے اور ان جزائر پر ارجنٹائن کی خودمختاری تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس منظرنامے کی ستم ظریفی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ان خفیہ دستاویزات کا انکشاف ہوا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود اس یہودی وجود نے 1982ء کی فاک لینڈ جنگ کے دوران ارجنٹائن کو خفیہ طور پر اسلحہ فراہم کیا تھا، یعنی وہ ان لوگوں کی صف میں شامل تھے جنہوں نے برطانوی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔
ایک ایسی سلطنت کا اس تیزی سے زوال پذیر ہونا، جس کے بارے میں کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ اس پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اب اس کی اپنی سرزمین کا اتحاد خطرے میں پڑ چکا ہے اور اس کے قریبی ترین اتحادی اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں، ان لوگوں کے لیے سامانِ عبرت ہے جو یہ گمان کرتے تھے کہ گردشِ ایام کا پہیہ کبھی ان کے خلاف نہیں گھومے گا۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں برطانیہ دنیا کی وہ برتر اور قائدانہ ریاست تھا جس کا کوئی مدِ مقابل نہ تھا، اور اس کا اثر و رسوخ دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی زمینی رقبے اور ایک چوتھائی آبادی پر محیط تھا۔ یہ تسلط محض عسکری بالادستی تک محدود نہیں تھا، بلکہ ایک جامع نظام تھا جس میں ایسی بحری طاقت تھی جس نے برطانوی شاہی بحریہ کو سمندروں کا بلا شرکتِ غیرے تاجدار بنا دیا تھا؛ ایسی معاشی قوت تھی جس نے لندن کو دنیا کا مالیاتی دارالحکومت اور پاؤنڈ اسٹرلنگ کو بین الاقوامی تجارت کی کرنسی بنا دیا تھا؛ اور ایسی سافٹ پاور تھی جس نے انگریزی زبان، کامن لاء اور پارلیمانی نظام کو پانچوں براعظموں میں پھیلا دیا تھا۔ برطانیہ ہی اصول و ضوابط طے کرتا اور انہیں نافذ کرتا تھا، وہی ریاستوں کی سرحدیں کھینچتا اور دوبارہ متعین کرتا تھا، وہی حکمران بناتا اور دوسروں کو معزول کرتا تھا۔ اور آج سیاسی اشاریے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ برطانیہ ایک فیصلہ کن تاریخی مرحلے کی دہلیز پر کھڑا ہے، اور اس کا شیرازہ بکھرنا اب محض کوئی خیالی منظرنامہ نہیں رہا بلکہ کئی اسباب کے تحت ایک متوقع راستہ بن چکا ہے، جن میں شامل ہیں: اندرونی دباؤ جس کے تحت خودمختاری اور حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے خطوں کا ایک متحدہ محاذ تشکیل پا رہا ہے؛ بیرونی اکساوا اور ملی بھگت، جس میں علیحدگی کے لیے نئی امریکی ترغیب شامل ہے؛ سابق اتحادیوں، مثلاً یہودی وجود کی جانب سے جزائر کی قانونی حیثیت اور برطانیہ کی سمندر پار خودمختاری پر شکوک و شبہات اٹھانا؛ اور مزید برآں اندرونی ساختی کمزوری، جس کے باعث مرکزی حکومت کی معاشی، عسکری اور سیاسی صلاحیتوں میں مسلسل تنزلی واقع ہو رہی ہے۔ چنانچہ وہ نوآبادیاتی ریاست جس نے ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کو رائج کیا تھا، آج حیرت و پریشانی کے عالم میں خود اپنا ہی زہر پی رہی ہے اور اس کی تلخی چکھ رہی ہے، اور وہ سلطنت جس نے کل دنیا کے نقشے بنائے تھے، آج خود اس کا نقشہ ازسرنو کھینچے جانے کی نوبت آ چکی ہے۔
برطانوی سلطنت پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا؛ لیکن آج سنجیدگی سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ: کیا اب خود متحدہ مملکت پر سورج غروب ہو جائے گا، اور انگلستان محض اپنی جزیرہ نما سرحدوں کے اندر اکیلا رہ جائے گا، یا شاید اس سے بھی کم تر ہو جائے گا؟ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کائنات میں ایک ایسا قانون قائم کر رکھا ہے جو بدلتا نہیں، اور اس نے اپنے مومن بندوں سے دنیا میں تمکین و عزت اور آخرت میں عظیم کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً﴾
”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور جانشینی (حکمرانی) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو جانشینی عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور غلبہ و استحکام بخشے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا“[سورۃ النور:آیت 55]
اس کے برعکس، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ظالموں اور جابروں کو دنیا میں ہلاکت و زوال اور آخرت میں برے انجام سے ڈرایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلَكِهِم مَّوْعِداً﴾
”اور یہ وہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے اس وقت ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا“[سورۃ الکہف:آیت 59]
اور فرمایا:
﴿ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ * وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ لَّمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ * وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ * إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ﴾
”یہ بستیوں کے ان احوال میں سے ہے جو ہم آپ کو سنا رہے ہیں؛ ان میں سے کچھ اب بھی قائم ہیں اور کچھ کٹی ہوئی فصل کی طرح (نیست و نابود) ہو چکی ہیں۔ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ پس جب آپ کے رب کا حکم آ پہنچا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے، ان کے ذرا بھی کام نہ آئے اور انہوں نے بربادی کے سوا ان کے کسی حال میں اضافہ نہ کیا۔ اور آپ کے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو اس حال میں پکڑتا ہے کہ وہ ظلم کر رہی ہوں، بے شک اس کی پکڑ نہایت دردناک اور سخت ہے۔ * یقیناً اس میں اس شخص کے لیے ایک بڑی نشانی ہے جو آخرت کے عذاب کا خوف رکھتا ہو، یہ وہ دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے جائیں گے اور یہ وہ دن ہوگا جس میں سب حاضر کیے جائیں گے“ [سورۃ ہود:آیت 100-103]
برطانیہ پسپائی اور زوال کی راہ پر سوویت یونین سے بھی پہلے گامزن تھا، اور آج اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اذن سے وہ اپنے اندرونی انتشار اور بکھراؤ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ امریکہ کا انجام بھی اپنے پیشروؤں سے دور نہیں ہے۔ تاہم، اس دنیا میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سنت کشمکش اور مسابقت کی سنت ہے۔ امتِ مسلمہ کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ خوابِ غفلت میں رہتے ہوئے اپنے دشمنوں کی ہلاکت کا انتظار کرے۔ بلکہ اسے اپنے معاملات کو سنبھالنا ہوگا، اپنے کندھوں سے اپنے دشمنوں کے ان ایجنٹوں کا طوق اتارنا ہوگا جنہوں نے اسے غلام بنا رکھا ہے اور رسوا کر رکھا ہے، اور ایک بار پھر آگے بڑھ کر اس مقام کو حاصل کرنا ہوگا جو انسانیت کے لیے برپا کی گئی بہترین امت کے سوا کسی کے شایانِ شان نہیں۔ تب یہ امت انسانیت کی رہنمائی کر کے اسے نجات کے ساحل تک پہنچائے گی، اور اس دن اہلِ ایمان اللہ کی مدد اور فتح پر شادمان ہوں گے۔
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن




