الثلاثاء، 09 جمادى الأولى 1448| 2026/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

فرانس اور جدید ریاست کا بحران: جب احتجاج اسکولوں کے دروازوں تک جا پہنچے

 

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

(ترجمہ)

 

 

فرانس کو یہ ثابت کرنے کے لیے کسی نئے احتجاج کی قطعی ضرورت نہ تھی کہ وہ ایک گہرے تہذیبی بحران کی گرفت میں ہے، البتہ اسے شاید ماضی کے کسی بھی اشارے سے زیادہ واضح اور دو ٹوک علامت درکار تھی۔ اور وہ یہ کہ غصے اور بے چینی کی لہر اسکولوں کے دروازوں تک جا پہنچے، اور خود طلبہ سڑکوں پر نکل کر ان اداروں کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں جو اب جدید ریاست کا بنیادی ترین وعدہ بھی پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے؛ یعنی ایک حاضر استاد، تدریس کے لیے سازگار کمرہ جماعت، ایک موزوں عمارت اور ایک ایسا مستقبل جس پر بھروسا کیا جا سکے۔

 

ستمبر 2026ء کے اواخر سے پیرس کے اسکولوں میں احتجاج کی ایک لہر اس وقت اٹھی جب اساتذہ کی کمی کے مسئلے نے غم و غصے کی چنگاری کو ہوا دی۔ پھر چند ہی دنوں کے اندر یہ سلسلہ پورے فرانس کے سینکڑوں اسکولوں تک پھیل گیا۔ طلبہ نے اساتذہ کی کمی دور کرنے، کلاس رومز میں طلبہ کے بے تحاشا ہجوم پر قابو پانے،جو بعض صورتوں میں تقریباً 35 طلبہ فی کلاس تک جا پہنچتا ہے،خستہ حال عمارتوں اور سہولیات کی مرمت و بحالی، اور 'پارکورسیپ' (Parcoursup) ویب پورٹل کے ذریعے یونیورسٹی منتقلی کے عمل سے جڑے تعلیمی دباؤ اور اضطراب میں کمی لانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ فرانسیسی اخبار 'لی مونڈ' (Le Monde) کے شائع کردہ تخمینوں کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں نے فرانس کے تقریباً 30 فیصد سیکنڈری اسکولوں کو متاثر کیا۔

 

یہ شدت اختیار کرتی تحریکیں کسی نئے بحران کو جنم دیے بغیر نہیں گزر سکتی تھیں، کیونکہ ریاست ان سے ایک انتہائی بارود نما سماجی اور سیاسی ماحول میں نمٹ رہی ہے، جہاں اس کی کوشش ہے کہ اجتماعات کو روکا جائے اور طلبہ کی ایک ایسی تحریک کو کچل دیا جائے جو آئندہ صدارتی انتخابات کے عمل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بعض مظاہرے تصادم اور توڑ پھوڑ میں بدل گئے، جس پر پولیس نے جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے ردعمل ظاہر کیا۔ معاملہ محض جبر اور طاقت کے استعمال تک ہی محدود نہ رہا؛ بلکہ 5 اکتوبر کو وزارتِ انصاف کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی، جن میں 87 فیصد نابالغ بچے تھے، جبکہ 1,800 سے زائد افراد کو قانونی کارروائی کے لیے عدالتوں میں بھیجا گیا۔ زخمی ہونے کے واقعات اس وقت انتہائی تشویشناک سطح پر پہنچ گئے جب پولیس کی مداخلت کے دوران دستی بم پھٹنے سے ایک پندرہ سالہ طالب علم اپنا ہاتھ گنوا بیٹھا، جس پر نیشنل پولیس کے جنرل انسپکٹوریٹ کو زخمی ہونے اور طاقت کے استعمال کے واقعات پر دس باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرنا پڑا۔ ادھر حکام نے بھی اعلان کیا کہ سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور متعدد مقامات پر حملوں، تخریب کاری اور آتش زنی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

 

تاہم، ان واقعات کی اصل اہمیت اس افراتفری کے پیمانے میں نہیں ہے جو ان کے ساتھ نمودار ہوئی، بلکہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ فرانس کا بحران اب ایک ایسی نئی نسل تک پہنچ چکا ہے جو خود ریاست کی سرکاری پالیسیوں کے مخالف کھڑی ہو گئی ہے۔ اس سے قبل 'پیلی واسکٹ' (Yellow Vests) تحریک، پنشن اصلاحات کے خلاف احتجاج، کسانوں کے مظاہرے، اور گرانی و کفایت شعاری کی پالیسیوں سے جڑی ہڑتالوں اور بے چینی کی لہریں سامنے آ چکی تھیں۔ مختلف شرکاء اور جداگانہ مطالبات کے باوجود جو قدر ان تمام تحریکوں کو باہم یکجا کرتی ہے، وہ یہ بڑھتا ہوا احساس ہے کہ ریاست معاشرے سے مزید قربانیوں کا تقاضا تو کر رہی ہے، لیکن ان ثمرات کی فراہمی میں اس کی صلاحیت مسلسل سکڑتی جا رہی ہے جنہیں کبھی فرانسیسی ماڈل کی بنیادی اور مستقل خصوصیات مانا جاتا تھا: یعنی ایک مضبوط اسکول کا نظام، مؤثر عوامی صحت، وسیع سماجی تحفظ اور بڑھتے ہوئے معاشی مواقع۔

 

یہاں میکرون ایک ایسے نظام کا ناگزیر لبادہ اور بیرونی چہرہ بن کر دکھائی دیتے ہیں جو خود ان کی ذات سے کہیں زیادہ پرانا ہے، نہ کہ اس نظام کے استحکام اور اسے مزید گہرا کرنے والے اصل کارندے کے طور پر۔ فرانس کا سرکاری قرضہ اس صدی کے آغاز میں جی ڈی پی کے 60 فیصد کے قریب تھا جو 2026ء کی دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر 119 فیصد تک پہنچ گیا، جس کا حجم تقریباً 3.596 ٹریلین یورو بنتا ہے۔ فرانس اس مرحلے میں بھاری بجٹ خسارے اور قرضوں کی ادائیگی (ڈیٹ سروسنگ) کی بڑھتی ہوئی لاگت کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، جبکہ حکومت ایک شدید منقسم پارلیمنٹ اور ایسے معاشرے کے روبرو 2027ء کے بجٹ میں بھاری بچت کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے جو اب کفایت شعاری کے نسخوں کو آسانی سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

 

اس مساوات کے دوسری طرف فرانس یورپ کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے سامنے اپنے بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) عزائم سے ہم آہنگ عسکری طاقت کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ 2017ء اور 2027ء کے درمیان فوجی بجٹ تقریباً دوگنا ہو چکا ہے؛ پنشنز کو نکال کر دفاعی بجٹ 2026ء میں 57.1 ارب یورو تک پہنچ گیا، جس میں صرف ایک سال کے اندر 6.7 ارب کا اضافہ ہوا، جبکہ ریاست کا ارادہ 2030ء تک اسے 76.3 ارب یورو تک لے جانے کا ہے۔ مزید برآں، 2024ء تا 2030ء کے لیے مختص کردہ ابتدائی 413 ارب یورو کے اوپر، 2026ء تا 2030ء کے عرصے کے ملٹری پروگرامنگ قانون میں مزید 36 ارب یورو کا اضافہ کیا گیا، جس میں گولہ بارود، ڈرونز، فضائی دفاع، خلائی شعبے اور شدید ترین نوعیت کی جنگ (ہائی انٹینسٹی وار فیئر) کے لیے درکار صلاحیتوں پر مسلسل توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

 

ان بھاری اخراجات کو محض اسلحے کی خریداری تک محدود قرار نہیں دیا جا سکتا۔ درحقیقت یہ فرانسیسی طاقت کی بنیادوں کی ازسرِ نو تعمیر کی ایک کوشش ہے: یعنی ایٹمی ڈیٹرنس کو جدید خطوط پر استوار کرنا، جنگی طیاروں، آبدوزوں، بحری جہازوں اور میزائلوں کی تیاری، اور ایک طویل جنگ لڑنے کے لیے درکار صنعتی اور عسکری صلاحیتوں کو وسعت دینا۔ یوکرین کی جنگ نے پورے یورپ پر یہ تلخ احساس مسلط کر دیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد کی وہ دہائیاں اب ختم ہو چکی ہیں جن میں افواج کے حجم کو گھٹا کر "امن کے ثمرات" سمیٹے جا رہے تھے۔ اس لیے فرانس کو دوبارہ مسلح کرنا میکرون کا اپنا کوئی ذاتی ایجاد کردہ منصوبہ نہیں ہے، اگرچہ ان کے دور میں اس میں نمایاں تیزی ضرور آئی ہے۔

 

اور یہی وہ تضاد ہے جو فرانس کے بحران کو اس کی تاریخی جہت، اس کی تہذیبی گہرائی اور مذہب کو زندگی سے الگ کرنے کے عقیدے  سے پیوست اس کی نظریاتی جڑیں فراہم کرتا ہے۔ ریاست ایک عالمی ایٹمی طاقت کی حیثیت برقرار رکھنا چاہتی ہے، ایک ایسی فوج کی مالک بننا چاہتی ہے جو خودمختارانہ کارروائی کی اہل ہو، یورپ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی خواہش مند ہے، اور یوکرین، مشرقِ وسطیٰ اور ہجرت جیسے معاملات پر پینترے بدلنا چاہتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک وسیع فلاحی ریاست، مضبوط سرکاری تعلیمی نظام اور گراں قدر عوامی سہولیات کو بھی قائم رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ تمام تر بلند عزائم ایک ایسی معیشت پر جمع ہو رہے ہیں جو برسوں سے سست رفتار پیداواری صلاحیت، بڑھتے ہوئے قرضوں اور بجٹ خساروں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یوں اس خیالی تصویر کے مابین خلیج اور زیادہ گہری ہو چکی ہے جو فرانس دنیا کے سامنے پیش کرنے کا آرزومند ہے، اور اس زمینی حقیقت کے مابین جو اس کے ادارے اپنے ہی ملک میں اپنے بچوں کو فراہم کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں؛ اور اسی صورتحال نے فرانس کو اس کی موجودہ متزلزل اور ڈانواں ڈول ہیئت میں لاکھڑا کیا ہے۔

 

چنانچہ اپنے خستہ حال اسکول کے سامنے کھڑے ایک فرانسیسی طالب علم کی تصویر بہت سی سیاسی تقریروں کے مقابلے میں اس بحران کی کہیں زیادہ گہری اور سچی عکاسی کرتی ہے۔ فرانس، جو اس پرآشوب دنیا میں ایک خود مختار اسٹریٹجک طاقت بننا چاہتا ہے، آج ایک ایسی نسل کے روبرو کھڑا ہے جو اس سے اس استاد کا حساب مانگ رہی ہے جو حاضر نہیں ہوا، اس کلاس روم پر سوال اٹھا رہی ہے جو کھچا کھچ بھرا ہوا ہے، اس عمارت کی بابت پوچھ رہی ہے جو شکست و ریخت کا شکار ہے، اور اس مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے جسے وہ غیر محفوظ دیکھ رہی ہے۔ پس منظر میں، اس کی فاسد آیئڈیالوجی کا گھن اندر ہی اندر سرایت کر رہا ہے، کیونکہ شناخت، ہجرت اور لاسیتی (فرانسیسی سیکولرازم) کے بحران یکے بعد دیگرے جمع ہو رہے ہیں، سیاسی تفریق گہری ہو رہی ہے، کمزور حکومتیں پے در پے آ جا رہی ہیں، انتہائی دائیں بازو کے عناصر سیاسی پستی کے اس دلدل سے توانائی حاصل کر رہے ہیں، اور معاشرے میں یہ یقین روز بروز پختہ تر ہوتا جا رہا ہے کہ سیاسی اشرافیہ اب اس قابل نہیں رہی کہ ریاست کے وعدوں اور اس کی مالی ادائیگی کی حقیقی سکت کے مابین کوئی تسلی بخش اور باوزن مفاہمت پیدا کر سکے۔

 

اسی سے اس گہرے اور جڑیں پکڑے ہوئے تہذیبی بحران کا وجود کھل کر سامنے آ جاتا ہے جو فرانس کی بنیادوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ وہ جوہری قوت کی حامل ریاست ہے، جدید صنعت، قائم شدہ اداروں اور یورپ میں ایک مرکزی حیثیت کی مالک ہے۔ تاہم، تہذیبوں کا وزن محض ان کی افواج کے حجم یا ہتھیار سازی کی صلاحیت سے نہیں تولا جاتا؛ بلکہ ان کا پیمانہ ریاست اور معاشرے کے مابین اعتماد کو نئے سرے سے بحال کرنے، اور نئی نسل کو اس بات کا یقین دلانے کی صلاحیت بھی ہے کہ جس مستقبل کا دفاع کرنے کا ان سے تقاضا کیا جا رہا ہے وہ واقعی اس لائق ہے کہ اس پر اعتبار اور یقین رکھا جائے۔

 

یہی وہ مقام ہے جہاں فرانس کا بحران اپنی عمیق ترین تہوں تک اتر جاتا ہے، جب وہ ایسی معاشی اور سماجی بنیاد استوار کرنے میں ناکام رہتا ہے جو اس کے عزائم کو قابلِ عمل بنا سکے، اور جب اس کا لڑکھڑاتا ہوا سرمایہ دارانہ ماڈل خود اپنے ہی پیدا کردہ بحرانوں کے حل نکالنے کی اس کی سکت کو سلب کر لیتا ہے۔ اس لیے کہ یہ زوال پذیر سرمایہ دارانہ ریاست جدید ترین میزائلوں اور طیاروں کے اخراجات تو اٹھا سکتی ہے، مگر وہ ایک طالب علم کو یہ باور کرانے میں بری طرح ناکام رہتی ہے کہ اس کا اسکول اور اس کا مستقبل اس قابل ہیں کہ ان پر سرمایہ کاری کی جائے۔ یہ المیہ ریاست اور معاشرے کے باہمی تعلق، حال اور مستقبل کے درمیانی ربط، اور اس خیالی تصویر جس کا تاثر فرانس قائم کرنا چاہتا ہے، اور اس ٹھوس حقیقت کے عین مرکز پر ضرب لگاتا ہے جو اس کے بچے اپنے اسکولوں اور گلیوں کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

 

یوں فرانس سرمایہ داریت کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے، اور اس جہنم اور اس کی تہہ در تہہ تاریکیوں سے اسے دوسری خلافتِ راشدہ کے سوا کوئی شے نجات نہیں دلا سکتی، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اذن سے عنقریب قائم ہو گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُم مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ﴾

"یقیناً ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکاریاں اور سازشیں کیں، تو اللہ نے ان کی عمارت کو بنیادوں ہی سے اکھاڑ پھینکا، پھر ان پر اوپر سے چھت آ گری اور ان پر عذاب وہاں سے آیا جہاں کا انہیں شعور بھی نہ تھا"۔[سورۃ النحل:آیت 26]

 

 

Last modified onمنگل, 20 اکتوبر 2026 06:17

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک