الأربعاء، 10 جمادى الأولى 1448| 2026/10/21
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوڈانی مذاکرات کا مقصد استعمار کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے

تحریر: استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل)

(ترجمہ)

 

 

خرطوم میں منگل، 29 ستمبر 2026 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران، سوڈانی ڈائیلاگ کمیٹی کے ایک رکن، نبیل ادیب نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے ایجنڈے میں بنیادی مسائل شامل ہوں گے، جن میں سرِفہرست جمہوری نظام، طرزِ حکومت، سوڈانی شناخت، سوڈان کا اتحاد اور انتخابات ہیں۔ نظامِ حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ادیب نے واضح کیا کہ سوڈان ایسے تجربات سے گزرا ہے جنہوں نے، کمیٹی کے نقطہ نظر کے مطابق، یہ ثابت کیا ہے کہ مرکزیت پر مبنی حکمرانی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، اور انہوں نے اسے بغاوتوں، خانہ جنگیوں کے بڑھنے اور ریاست کے انتشار سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تنوع کے پیشِ نظر، سوڈان کو صرف ایک جمہوری فریم ورک کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے۔ یہ ہیں سوڈانی-سوڈانی مذاکرات کے رہنمائے اصول۔

 

ان رہنمائے اصولوں کی تفصیلات میں جانے سے پہلے، ہم ایک اہم حقیقت پر زور دینا چاہتے ہیں: ہم ان حکمران نظاموں اور ان کی کمیٹیوں کے دھوکے اور جو کہتے ہیں اس کا الٹ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے معاہدے کو امن معاہدے کا نام دیا گیا تھا، اور اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بات چیت "سوڈانی-سوڈانی" مذاکرات ہے۔ لیکن ابھی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوا کہ اس کا حل ان لوگوں سے مانگا جا رہا ہے جو نہ سوڈان کے عوام میں سے ہیں—بلکہ درحقیقت سوڈان کے کھلے دشمن ہیں۔ اخباری اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ سوڈانی مذاکرات کی تیاری کرنے والی کمیٹی نے جمعرات، 01/10/2026 کو قاہرہ میں یورپی یونین کے ممالک کے سفیروں کے ایک وفد کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے فرائض کی تفصیلات اور سیاسی و سماجی قوتوں کے ساتھ اس کے وسیع تر مشاورتی عمل پر بات چیت کی گئی۔ اب یہاں یہ سوال پوری شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ یورپی یونین کے سفیروں کا سوڈانی مذاکرات سے کیا سروکار؟ یا پھر کیا یہ سفیر بھی سوڈانی ہیں اور ہمیں اس کی خبر نہیں؟

 

جہاں تک مذاکرات کے رہنما خطوط یا ایجنڈے کا تعلق ہے، جیسا کہ کمیٹی نے انہیں یہ نام دیا ہے، تو ہم ان میں سے اہم ترین نکات پر تفصیل سے بحث کریں گے، یعنی: جمہوری نظام اور طرزِ حکومت، سوڈانی شناخت، اور غیر مرکزی حکومت۔

 

اول: جمہوریت اور نظامِ حکومت

کمیٹی جمہوریت کو حکمرانی کی بنیاد قرار دیتی ہے جب وہ یہ کہتی ہے کہ سوڈان کو اس کے تنوع کے پیشِ نظر صرف ایک جمہوری فریم ورک کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے۔ وہ یہ بات یوں کہتے ہیں گویا پچھلی سات دہائیوں سے ہم پر جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نافذ رہا ہو! جب سے انگریز استعمار اپنی فوجوں کے ساتھ یہاں سے نکلا، وہ اپنے پیچھے ایسے افراد چھوڑ گیا جنہیں اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ اس مقصد کے لیے تیار کیا تھا کہ وہ اسی جمہوری نظام کے وارث بنیں جو اس نے ہمارے ملک میں نافذ کیا تھا، اور یہ سلسلہ شکلوں اور ظاہری صورتوں کے بدلنے کے باوجود آج تک جاری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوری نظام کی بنیاد اس بات پر ہے کہ قانون ساز ہی حکمران ہوتے ہیں، چاہے وہ سویلین ہوں جو جلابیہ اور پگڑیاں پہنتے ہوں یا سوٹ پہنتے ہوں، یا پھر وہ فوجی ہوں جو فوجی وردیاں پہنتے ہوں—اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان سب نے کافر استعمار کے نظاموں کے ذریعے ملک پر حکومت کی ہے اور سیاسی، معاشی، عسکری اور دیگر تمام حوالوں سے اسی کے تابع رہے ہیں۔ صرف تابعداری کا رخ بدل جاتا ہے: کبھی برطانوی غلامی سے امریکی غلامی، پھر برطانوی اور پھر امریکی، اور یہ چکر یونہی چلتا رہتا ہے... نتیجہ یہ ہے کہ ہم بدستور نوآبادیاتی تسلط اور غلامی کا شکار ہیں، کیونکہ ایک آزاد ریاست وہ ہوتی ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہو، اپنے معاملات کی باگ ڈور خود سنبھالتی ہو اور اپنی آزاد مرضی کے مطابق عمل کرتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سوڈان ان تمام دہائیوں کے دوران پسماندہ رہا اور ترقی یافتہ ریاستوں کی صفوں سے پیچھے رہ گیا۔ ہم ایسی ریاستیں دیکھتے ہیں جو کبھی نوآبادیات تھیں لیکن آج بڑی طاقتیں بن چکی ہیں کیونکہ انہوں نے استعمار کے جوئے کو مکمل طور پر اتار پھینکا؛ ان کے فیصلے ان کے اپنے ہاتھ میں ہیں اور وہ اپنی مرضی سے اقدامات کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکہ برطانیہ کی ایک نوآبادی تھا، اور جب وہ اس سے آزاد ہوا تو وہ کوئی تابع ریاست نہیں بنا؛ بلکہ ایک آزاد ریاست بنا اور اس نے اتنی ترقی کی کہ آج وہ دنیا کی سب سے بڑی اور قائدانہ ریاست بن چکا ہے۔

 

ایک اور مثال چین کی ہے، جو جاپان کی نوآبادی تھا، لیکن آزادی کے بعد وہ کوئی ماتحت ریاست نہیں بنا بلکہ ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ آج وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک میں شامل ہے۔ درحقیقت، جمہوریت اپنی ساخت میں ہی ایک متضاد نظریہ ہے، جس کا عملی نفاذ ناممکن ہے۔ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ حاکمیت عوام کا حق ہے اور وہ خود پر حکمرانی کرتے ہیں،جو کہ ایک سراسر فریب اور جھوٹ ہے۔ کروڑوں لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور قوانین وضع کرنا ناگزیر طور پر ناممکن ہے، اس لیے اس کا چور دروازہ یہ نکالا گیا کہ ایسے نمائندے منتخب کیے جائیں جو ان کی طرف سے قانون سازی کریں۔ مزید یہ کہ، مجموعی طور پر عوام نہ حکومت چلاتے ہیں اور نہ ہی ریاستی امور کا انتظام سنبھالتے ہیں؛ بلکہ اصل حکومت ایک مخصوص اشرافیہ کی ہوتی ہے جو قوانین، مالی وسائل اور میڈیا کے اثر و رسوخ کے ذریعے طے شدہ انتخابی حربوں کے بل بوتے پر اقتدار کو آپس میں بانٹتی رہتی ہے۔ "عوام کی مرضی" محض ایک ایسا نعرہ بن کر رہ جاتی ہے جسے ضرورت پڑنے پر پکارا جاتا ہے اور جب طاقتوروں کے مفادات سے ٹکراؤ ہو تو اسے یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سرمایہ داروں کے نزدیک ترین جمہوری ممالک میں بھی اقتدار اور کنٹرول انہی سرمایہ داروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ معاصر امریکی فلسفی نوم چومسکی نے بھی اس کی تائید کی ہے، ان کا استدلال ہے کہ مغرب میں، خاص طور پر امریکہ میں، جمہوریت "رضامندی کی تیاری" (manufacturing consent) کے نظام کے تحت چلتی ہے، جہاں میڈیا کے ادارے اور بڑی کارپوریشنز ووٹروں کے ذہنوں کو کنٹرول کرتی ہیں اور حکمران اشرافیہ کے مفاد میں ان کی رائے کو تشکیل دیتی ہیں، جس سے ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ ہے وہ جمہوریت جسے سوڈانی ڈائیلاگ کی تیاری کمیٹی حکمرانی کی بنیاد بنانا چاہتی ہے، حالانکہ ہمارے ملک میں دہائیوں تک اس کا تجربہ کیا جا چکا ہے اور اس کی ناکامی ثابت ہو چکی ہے۔ تو پھر وہ ہم سے اس چیز کا دوبارہ تجربہ کیوں کروانا چاہتے ہیں جسے پہلے ہی آزمایا جا چکا ہے؟ عربی ضرب المثل کہتی ہے: (تجريب المجرب ندامة) "آزمائے ہوئے کو آزمانا ندامت (پچھتاوا) ہے"، اور عوامی کہاوت ہے: (إلي بيجرب المجرب عقله مخرب) "جو آزمائے ہوئے کو آزمائے اس کی عقل خراب ہے"۔ یہ تو تھا عملی اعتبار سے۔ جہاں تک شرعی نقطہ نظر کا تعلق ہے، تو یہ کفر کا نظام ہے جو اپنے اصول و فروع دونوں میں ہمارے عقیدے سے متصادم ہے۔ ہمیں اس دلدل سے نکالنے کے بجائے، وہ اپنے کافر استعماری آقاؤں کی خدمت میں اسی نظام کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

 

دوم: شناخت اور شناخت سے کیا مراد ہے؟

اصطلاحی بحث میں الجھے بغیر، شناخت کا سیدھا سا مطلب ہے: ہم کون ہیں؟ اور سوڈان میں ہماری شناخت سینکڑوں سال پہلے ہی طے ہو چکی ہے؛ ہم مسلمان ہیں، خواہ ہم عرب ہوں یا افریقی، سیاہ فام ہوں یا سفید فام۔ ان ظاہری اوصاف کا شناخت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ شناخت پر بحث کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ 2014 میں وثاق مذاکرات (Wadah Dialogue) کے دوران پہلے ہی اس پر بحث کر چکے تھے اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسے قومی یا سوڈانی شناخت کے طور پر طے کر لیا ہے! اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ بات بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، جس کا مقصد ہماری اصل شناخت یعنی اسلام پر پردہ ڈالنا ہے۔ اسلام وہ سانچہ ہے جس میں تمام نسلیں اور قومیتیں یکجا ہو کر ایک ہو چکی ہیں، نہ صرف سوڈان میں بلکہ ہر اس خطے میں جہاں اسلام داخل ہوا۔ لہٰذا، ہماری شناخت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے اور سوڈانی مذاکرات میں اس پر بحث چھیڑنے کا اصل مقصد اسلام کو نظامِ حکومت، سیاست اور زندگی کے دیگر شعبوں سے دور کرنا ہے۔ اور جو لوگ ہماری شناخت کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں وہ درحقیقت صرف اپنے آقاؤں کی پالیسی کی خدمت کر رہے ہیں۔

 

سوم: غیر مرکزی حکومت

ڈائیلاگ کمیٹی نے بیان دیا کہ مرکزیت پر مبنی حکمرانی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اس نے اسے بغاوتوں، خانہ جنگیوں اور ریاست کے بکھراؤ سے جوڑا۔ یہاں بھی ایک اور فریب کاری سے کام لیا گیا ہے، کیونکہ مرکزی حکمرانی اور بغاوتوں یا خانہ جنگیوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ بغاوت دراصل سوڈان پر جاری بین الاقوامی کشمکش کے مقاصد سے جڑی ہوئی ہے۔ سوڈان میں پہلی بغاوت انگریزوں نے خود کھڑی کی تھی، جنہوں نے سوڈان پر حکومت کی اور جنوبی حصے کو الگ کرنے کے مقصد کے تحت وہاں "بند اضلاع" (Closed Districts) کی پالیسی نافذ کی۔ مزید برآں، جنوب میں بغاوت کا آغاز 1955 میں ہوا، یعنی برطانیہ کے جانے سے پہلے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ برطانیہ ہی تھا جس نے جنوب کو الگ کرنے کے مقصد سے اس بغاوت کا تانا بانا بنا۔ اس کے بعد امریکہ نے اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کیا جب اقتدار کے معاملات اس کے ایجنٹوں کے ہاتھ آئے، اور اس نے برطانیہ کے اسی منصوبے کو آگے بڑھایا یہاں تک کہ وہ 2011 میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی کی صورت میں کامیاب ہو گیا۔ جہاں تک دارفور میں باغی تحریکوں کا تعلق ہے، تو وہ زیادہ تر برطانیہ کی حمایت یافتہ تحریکیں ہیں جو سوڈان کی حکومت میں موجود امریکی ایجنٹوں کے خلاف کھڑی کی گئیں۔ اس کے علاوہ، غیر مرکزی نظامِ حکومت،خواہ وہ فیڈرل ہو یا کنفیڈرل،بنیادی طور پر ایسی ریاستوں کے لیے بنایا گیا ہے جو آپس میں متحد ہونا چاہتی ہوں، نہ کہ اس ملک کے لیے جو پہلے ہی سے ایک اور متحد ہو!! ہمارے ممالک میں ایسے نظاموں کا نفاذ محض تقسیم اور بکھراؤ کے مقصد سے کیا جاتا ہے؛ یہ پرانی استعماری پالیسی "تقسیم کرو اور حکومت کرو" (divide and rule) کے سوا کچھ نہیں ہے۔ البتہ، اسلام میں نظامِ حکومت وحدت پر مبنی ہے، جبکہ انتظامیہ غیر مرکزی ہوتی ہے، اور حکومت اور انتظامیہ میں واضح فرق ہے۔ جس طرح یہ افراد ہماری سرزمینوں میں کافر استعمار کی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں، اسی طرح ایسے مردانِ کار بھی موجود ہیں جو انتھک محنت کر رہے ہیں اور اپنے شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کو دوبارہ قائم کر کے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کو شرمندہ تعبیر کر سکیں۔

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے سرکاری ترجمان

 

 

Last modified onمنگل, 20 اکتوبر 2026 15:09

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک