بسم الله الرحمن الرحيم
حل اسلامی معاشی نظام میں ہے، سرمایہ دارانہ معاشی نظام میں نہیں
تحریر: استاد مصطفیٰ عتیق
(ترجمہ)
شام کے وزیرِ توانائی، محمد البشیر نے اتوار، 20 ستمبر 2026 کو پیپلز کونسل کے روبرو سماعت کے ایک اجلاس کے دوران بیان دیا کہ سوشلسٹ معاشی نظام سے آزاد معیشت کی طرف منتقلی کے عمل میں بعض خدمات پر سبسڈی میں کمی ایک معمول کی بات ہے۔
یہ بیان واضح طور پر اسلامی معاشی نظام کو نظر انداز کرنے کا کھلا ثبوت ہے، جہاں ان کے دعوے کے مطابق، انسان ساختہ سوشلسٹ نظام سے دوسرے انسان ساختہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرف منتقلی کی جا رہی ہے۔ یہ ادنیٰ درجے کے انسان ساختہ نظاموں کے درمیان ادل بدل کرنے اور اسلام کے اعلیٰ و برتر نظام سے منہ موڑنے کا واضح اظہار ہے،وہی نظام جس کے نفاذ کی خاطر لوگوں نے اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کیے ہیں۔
عبوری مرحلے کی شامی انتظامیہ اب بھی اپنی معاشی پالیسیوں میں آزاد معاشی نظام کو اپنا کر دنیا کے سامنے خود کو مارکیٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے؛ ایک ایسا نظام جس کے بدترین نقصانات میں عوام کے لیے بنیادی خدمات اور ضروری اشیاء پر سے سبسڈی کا خاتمہ شامل ہے،جن میں پیٹرولیم مصنوعات سرِفہرست ہیں،اور اس کے بعد عام لوگوں کی ملکیت والے عوامی اثاثوں کی نجکاری اور ان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔
اس انتظامیہ کو اپنے مسائل سلجھانے اور معاشی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے سودی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے سوا کوئی اور حل دکھائی نہیں دیتا! جبکہ وحی پر مبنی اپنی الٰہی قانون سازی کے ساتھ اسلامی معاشی نظام کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے، حالانکہ انقلاب، جنگ اور عوام کو نڈھال کر دینے والی تباہی کے برسوں بعد شام میں ہر نوعیت کے بحرانوں کے حل کے لیے وہی ایک کامیاب، مؤثر اور واحد علاج ہے۔
وزیر موصوف نے سبسڈی میں کمی کو سوشلسٹ نظام سے آزاد معیشت کی طرف منتقلی کا ایک معمول کا عمل قرار دیا! یہاں ہم یہ سوال کرتے ہیں: آخر کس نے کہا کہ سابقہ نظام سوشلسٹ تھا؟ وہ تو درحقیقت بوسیدہ اور فرسودہ قوانین پر مبنی ایک سرمایہ دارانہ نظام ہی تھا۔ مزید برآں، لالچی اور سودی آزاد معاشی نظام کی طرف منتقلی ان معاشی حالات کا حل ہرگز نہیں جن سے شام اس وقت گزر رہا ہے۔
کیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت میں شام کے تمام معاشی مسائل کا حل موجود نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾”اور اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا، پس ہم نے ان کے کرتوتوں (اور برے اعمال) کے سبب انہیں پکڑ لیا۔“ [سورۃ الاعراف:آیت 96]
دمشق حکومت کی روش سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ وہ عالمی نظام اور اس کے اداروں، بشمول بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی فرمانبرداری میں آزاد منڈی کے معاشی نظام کی جانب جھک رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام پر سخت اور کڑے اقدامات مسلط کیے جا رہے ہیں، جن میں بنیادی اشیاء اور خدمات پر جامع حکومتی سبسڈی کا خاتمہ یا اس میں کمی شامل ہے، جو متوسط اور غریب طبقات کے لیے ایک شدید دھچکے کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاملے کو مزید بگاڑتے ہوئے، اس نے ملک کے دروازے لالچی سرمایہ کاروں اور نجکاری کے منصوبوں کے لیے کھول دیے ہیں۔
شام کی معیشت کی کمزوری و نزاکت کا علاج آزاد منڈی کا وہ لالچی معاشی نظام ہرگز نہیں کر سکتا جو ہر چیز کو نگل جاتا ہے اور عوام کو غربت و محتاجی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ بلکہ اس کا مداوا صرف اور صرف اسلامی معاشی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو قرآن و سنت اور ان کی فراہم کردہ رہنمائی کی بنیاد پر ایک جامع اسلامی منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
چنانچہ وسائل کا تحفظ کرنا اور انہیں مؤثر طریقے سے بروئے کار لانا، اور عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی اور غذائی تحفظ کے حصول کے لیے تمام شعبوں میں مقامی پیداوار کو بڑھانے پر کام کرنا واجب ہے، کیونکہ یہ ان لوگوں کا فرض ہے جو عوام کے معاملات چلاتے ہیں اور ان کے امور کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئاً فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئاً فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ»”اے اللہ! جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا پھر اس نے ان پر سختی کی، تو تو بھی اس پر سختی فرما؛ اور جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا اور اس نے ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا، تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی فرما۔“




