الثلاثاء، 09 جمادى الأولى 1448| 2026/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

چین ازبک تعلقات میں ”سنہری عشرے“ کا نعرہ اور اس کا حقیقی نگہبان

 

تحریر: استاذ عبدالعزیز الاوزبکی

(ترجمہ)

 

 

چین ازبکستان کے ساتھ باہمی تعاون کے ذریعے دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا سنہری باب کھولنے کے لیے تیار ہے۔ اس بات کا اظہار صدر شی جن پنگ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت میرزیایف سے ملاقات کے دوران کیا۔ دونوں فریقوں کے مابین ہونے والے ان مذاکرات کو سرکاری سفارت کاری کی زبان میں ایک اور کامیاب صفحے کے طور پر پیش کیا گیا۔

 

”نیا سنہری عشرہ“، ”مشترکہ مستقبل کی حامل چین ازبکستان برادری“ اور ”باہمی طور پر فائدہ مند اسٹریٹجک شراکت داری“ جیسے دلکش نعروں کی اوٹ میں درحقیقت اہم عالمی اور علاقائی کارروائیاں پوشیدہ ہیں۔ جب بین الاقوامی صورت حال، عالمی سرمایہ دارانہ قوتوں کے باہمی تصادم اور امتِ مسلمہ کے جیو اسٹریٹجک مفادات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس معاملے کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

 

ایک طرف چین کھڑا ہے،ایک ایسی کمیونسٹ سرمایہ دارانہ طاقت جو اپنی سپلائی چینز اور برآمدی راستوں کو محفوظ بنانے کے درپے ہے،اور دوسری طرف ایک ایسی باجگزار حکومت ہے جو کسی آزاد اصولی و نظریاتی مرجع سے محروم ہے، اور جس نے اپنی قدرتی دولت، راہداری کی صلاحیتیں اور مسلمان آبادی بڑی طاقتوں کے درمیان بندر بانٹ کے لیے ان کے حوالے کر رکھی ہے۔

 

بین الاقوامی منظر نامہ:

  • امریکی بالادستی کا زوال: امریکہ کی صنعتی اور تکنیکی اجارہ داری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے، اور اندرونی قرضوں اور ٹیرف پالیسیوں کے علاوہ ایران، غزہ اور دیگر اسلامی ممالک میں اس کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں نے اس کی عسکری، معاشی اور مالیاتی طاقت کو شدید زک پہنچائی ہے۔ اب وہ تنِ تنہا پوری دنیا کو قابو میں رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
  • یورپ کا ساختیاتی بحران: روس یوکرین جنگ اور سستی توانائی کے فقدان کے نتیجے میں یورپ صنعتی زوال کے بھنور میں پھنس چکا ہے اور امریکہ و چین کے مابین مسابقت کا شکار بن کر رہ گیا ہے۔
  • چین کا توسیع پسندانہ دباؤ: چین محض ایک عالمی صنعتی مرکز بننے پر ہی مطمئن نہیں ، بلکہ اس نے الیکٹرانک چپس، قابلِ تجدید توانائی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مغرب پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ڈالر پر انحصار گھٹانے کے لیے بین الاقوامی تجارت میں چینی یوآن کا تناسب مسلسل بڑھا رہا ہے۔

ان حالات میں، سامان کی ترسیل کے لیے زمینی راستوں کو یقینی بنانا چین کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ جب آبنائے ہرمز اور ملاکا جیسی سمندری گزرگاہیں اور بحر الکاہل کے پانی امریکی بحری افواج یا علاقائی جنگوں کے خطرے کی زد میں ہوں، تو ایسے میں وسطی ایشیا کے راستے زمینی ”ون بیلٹ، ون روڈ“ نیٹ ورک ہی چینی سامان کو یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں تک پہنچانے کا واحد متبادل بن جاتا ہے۔

 

چنانچہ، ”چین-کرغزستان-ازبکستان“ ریلوے لائن، جس پر شی جن پنگ نے بشکیک میں زور دیا تھا، بیجنگ کے لیے محض بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک، جیو اکنامک اور عسکری شریان ہے جو مغربی پابندیوں اور بحری ناکہ بندیوں کا توڑ کرتی ہے۔

 

ازبکستان کے ساتھ تعلقات میں چین کی جانب سے ”مصنوعی ذہانت، صحرا زدگی کی روک تھام، غربت میں کمی اور ثقافتی مراکز کے قیام“ جیسے نعروں کا فروغ، درحقیقت سافٹ پاور کے لبادے میں لپٹا معاشی انحصار اور غلامی کا ایک جال ہے:

 

  1. خام مال اور منڈیوں پر اجارہ داری: ٹیکنالوجی اور قرضوں کے عوض چین ازبکستان کی معدنی دولت (یورینیم، تانبا، گیس اور نایاب زمینی عناصر یعنی REEs) کے ساتھ ساتھ اس کے توانائی کے گرڈز اور ٹرانسپورٹ کوریڈورز پر پنجے گاڑ رہا ہے۔ وہ نایاب زمینی معدنیات اور پیداواری زنجیروں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اور اب وہ ازبکستان کے وسائل کو مکمل طور پر اس پیداواری زنجیر کا حصہ بنا رہا ہے۔
  2. ثقافتی اور تعلیمی توسیع پسندی: ثقافتی مراکز کے قیام، تعلیمی تبادلوں اور عوامی رابطوں کے فروغ کے لیے شی چن پنگ کی دعوت دراصل ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا مقصد وسطی ایشیا کے مسلم عوام میں چین کے متعلق تاثر کو بہتر بنانا اور فکری و ثقافتی بنیادوں پر سیاسی و معاشی توسیع پسندی کو تقویت دینا ہے۔
  3. تین شیطانی قوتوں کا داغ: اسلامی بیداری کے خلاف سازش: مشترکہ اعلامیے میں سب سے خطرناک نکتہ دونوں فریقوں کا تین شیطانی قوتوں (دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی) کے خلاف لڑنے کے لیے متحد ہونے پر اتفاق ہے۔

ان اصطلاحات کا اصل مقصد مشرقی ترکستان کے المیے کو قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کرنا ہے۔ چین ”انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی“ کے بہانے لاکھوں ایغور اور دیگر ترک نژاد مسلمانوں کو عقوبت خانوں میں قید کر کے ان کی اسلامی شناخت کو مٹانے کے درپے ہے۔ ازبکستان کی جانب سے اس بیانیے کو بلا چون و چرا تسلیم کرنا اور شی چن پنگ کے چار عالمی اقدامات اور ”ون چائنا“ کے اصول کی مکمل حمایت کرنے کا مطلب مشرقی ترکستان کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں حصہ دار بننا اور چین کی اسلام دشمن پالیسیوں کا باقاعدہ جواز فراہم کرنا ہے۔

 

امریکہ اور مغرب اسلام اور اس کے احکام کے خلاف منظم جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح، چین، روس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر موجود علاقائی حکومتیں بھی مسلم عوام میں ابھرتی ہوئی بیداری، اسلامی تشخص کے احیاء اور اسلامی نظامِ حکومت،خلافت،کے تصور سے خوفزدہ ہیں۔ انہی نام نہاد تین شیطانی قوتوں کے لیبل تلے اس اسلامی بیداری اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی ہر فطری تحریک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

خطے کی حکومتوں میں آزاد پالیسی کا فقدان: خطے کے ممالک پر مسلط کٹھ پتلی حکمران اپنے عوام سے کٹے ہوئے ہیں اور اپنے تخت و تاج کو بچانے کے لیے امریکہ، روس اور چین جیسی بیرونی طاقتوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔

ازبک حکومت کی جانب سے شی چن پنگ کی ”دور اندیشی“ کی تعریف اور چینی ماڈرنائزیشن کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار یہ ظاہر کرتا ہے کہ کثیر جہتی خارجہ پالیسی کے لبادے میں، اور روس کے یوکرین کی دلدل میں پھنسنے اور امریکہ کی اسٹریٹجک بوکھلاہٹ کے دوران، تاشقند تیزی سے بیجنگ کے معاشی اور سیکیورٹی شکنجے میں جکڑتا جا رہا ہے۔

 

کسی ملک کے عظیم بننے کے لیے محض فوج یا خام مال کا ہونا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پاس ایک تہذیبی منصوبہ، ایک خود مختار صنعتی بنیاد اور اپنے وسائل پر مکمل اختیار کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ چونکہ خطے کی حکومتیں ان تمام چیزوں سے یکسر محروم ہیں، اس لیے وہ محض ایسے ماتحت فریق بننے پر قناعت کیے بیٹھی ہیں جو چینی صنعت کو خام مال فراہم کرتے ہیں اور چینی مصنوعات کو کھپاتے ہیں۔

 

نجات کا راستہ کہاں ہے؟

وہ نیا سنہری دور جو چین ازبکستان کے ساتھ شروع کرنا چاہتا ہے، درحقیقت:

  • چین کے لیے: سپلائی چینز کو محفوظ بنانا، امریکہ کے ساتھ مسابقت میں وسطی ایشیا کے وسائل پر مکمل تسلط حاصل کرنا، اور مسلمانوں کے اتحاد کے راستے میں ایک سیکیورٹی دیوار کھڑی کرنا ہے۔
  • ازبک حکومت کے لیے: عوام کی دولت نچھاور کر کے کسی بیرونی سرپرست سے سیاسی اور مالی ضمانتیں حاصل کرنا، اور اپنے اقتدار کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
  • مسلمان عوام کے لیے: معاشی غلامی، قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، اور ”انسدادِ دہشت گردی“ کے بہانے اسلامی بنیادوں پر اٹھنے والی بیداری کا مزید گلا گھونٹنا ہے۔

اس نازک اور تاریخی موڑ پر، جب امریکی اور مغربی سرمایہ داریت ایک گہرے ساختیاتی بحران سے دوچار ہے، یورپ کی صنعت اور دفاع بحران کی لپیٹ میں ہیں، اور چین دنیا کا بوجھ اٹھانے پر آمادہ نہیں ہے، وسطی ایشیا کے عوام اور پوری امت کی نجات نہ تو چین کی طرف جھکنے میں ہے اور نہ ہی مغرب کی طرف دیکھنے میں، بلکہ اس بات میں ہے کہ مسلمان قوم پرستی اور وطن پرستی کی دلدل سے نکلیں، اپنے اسلامی عقیدے کی طرف لوٹیں، نام نہاد تین شیطانی قوتوں کے داغ کو مسترد کریں اور خلافتِ راشدہ کے پرچم تلے متحد ہو جائیں۔ کیونکہ صرف یہی عظیم اور درخشاں ریاست چین کے استعماری عزائم کا راستہ روکنے، مشرقی ترکستان کے مظلوموں کو آزادی دلانے اور خطے کے وسائل کو ان کے حقیقی مالکان یعنی امتِ مسلمہ کی ترقی اور خوشحالی کی طرف موڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

 

 

 

Last modified onمنگل, 20 اکتوبر 2026 14:11

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک